لعن طعن ہونے اورلوگ کہنے لگے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بناوٹ کی ہے ۔ بہانہ کرتا ہے ۔وغیرہ وغیرہ مگرجب وقت گذرگیا اور رات کی سنسان گھڑیا ں تھیں کہ وہی شخص وہی روپیہ لے کر اسی بزرگ کے مکان پرچپکے سے لگے اور وہی روپیہ پیش کرکے عرض کی کہ حضور میں نے روپیہ اللہ تعالیٰ کے واسطے دیا تھا نہ کہ تعریفیں سننے کے واسطے ۔ اب آپ کو قسم ہے خداکی کہ آپ اس روپیہ کا کسی سے ذکر نہ کریں ۔ یہ سن کر وہ بزرگ رو پرے اس خیال سے کہ اب جب تک یہ شخص جئے گا لوگ اسے گالیاں دیں گے ۔ طعن وتشنیع کرینگے ‘ملامت ہی کیا کریں گے ۔ ان کو اس حقیقت کی کیا خبر ؟ غرض جس کام میں ریاکاری کا ذرہ بھی ہووہ ضائع جاتا ہے ۔اس کی وہی مثال ہے جیسے ایک اعلیٰ قسم کے عمدہ کھانے میں کتامنہ ڈال دے۔ آج کل بھی یہ مرض بہت پھیلا ہواہے اور اکثر امور میں ریاکاری کی ملونی ساتھ ہوتی ہے ۔پس اعمال میں یہ ملونی ہونی نہ چاہئیے ۔اصل میں انسان ایک حدتک معذور بھی ہے کہ ملونی کرنے کو تیار ہوجاتا ہے ۔کیونکہ مکمل توہے نہیں ۔ جب تک اسے نفس مطمئنہ حاصل نہ ہوجائے اور کس کی لعن کی پروانہ کرے ۔اس کے اعمال میں ایسا اخلاص ہوجائے کہ تعریف کرنے والا اور گالی دینے والا مناقب بیان کرنے والا اورحقارت سے دیکھنے والا اس کی نظر میں یکساں ہوجائیں اور یہ دونوں کو برابر جانے مردے کی طرح جانے جو نہ اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اورنہ سنوارسکتا ہے ۔ اس وقت میں ستراً وعلایۃً پر بحث نہیں کرتا بلکہ نفس کی ملونی کا ذکرکرتا ہوں میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ خفیہ ہی خیرات کرواور علانیہ نہ کرو ۔ نیک نیتی کے ساتھ ہر کام میں ثواب ہوتا ہے ۔ ایک نیک طبع انسان ایک کام میں سبقت کرتا ہے اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس کا رخیر میں شریک ہوجاتے ہیں۔ اس طر ح سے اس شخص کو بھی ثواب ملتا ہے ان کے ثواب میں سے بھی حصہ لیتا ہے ۔پس اس رنگ میںکوئی نیک کام اس نیت سے کرنا کہ دوسروں کو بھی ترغیب وتحریص ہو بڑا ثواب ہے۔ ٓاخلاص کی اہمیت شریعت اسلام میں بڑے بڑے باریک امورایسے ہیں تاکہ اخلاص کی قوت پیدا ہواجائے ۔اخلاص ایک موت ہے جو مخلص کو اپنے نفس پرواردکرنی پڑتی ہے۔ جو شخص دیکھے کہ علانیہ خرچ کرنے اورخیرات دینے یا چندوں میںشامل ہونے سے اس کے نفس کو مزاآتا ہے اورریا پیدا ہوتی ہے تواس کو چاہئیے کہ ریاکاری سے دست بردار ہوجائے اور بجائے علانیہ خرچ کرنے کے خفیہ طورسے خرچ کرے اور ایسا کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی علم نہ ہو۔پھر خداقادر ہے کہ نیک کو س کی نیکی اورپاک تبدیلی کی وجہ سے بخش دے ۔اس میں کوئی سوبرس کی ضرورت