غرض ایک فقرہ (لاالہٰ الااللہ )میں تواللہ تعالیٰ نے توحید سکھائی ہے اور دوسرے (من اسلم وجھہ للہ )میں یہ سکھایا کہ اس توحید پر سچے اورزندہ ایمان کا ثبوت اپنے اس فعل سے دواور خداتعالیٰ کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔ اس بات کو توجہ سے سننا چاہئیے ۔ مسلمانوں کے واسطے یہ ایک مفید مسئلہ ہے ۔صرف اس بات سے راضی نہ ہونا چاہیئے کہ ہم مسلمان ہیں یا ظاہر ی نماز روزے کی پابندی کرتے ہیں ۔ خطرناک مشکلات میں ثابت قدم رہنا اورقدم آگے ہی آگے اٹھانا اورخدائی امتحان میں پاس ہوجانا سچے اورحقیقی ایمان کی دلیل ہے ۔مشکلات کا آنا اور ابتلائو ں کا آنا مومن پر ضروری ہے تاظاہر ہوکہ کون سچا مومن اور کون صرف زبانی ایمان کا مدعی ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے احسب الناس ان یتر کوآان یقولوآامنا وھم لایفتنون (العنکبوت :۳)مسلمانوں کے صدرنے عمل سے ثابت کیا تھا کہ واقعی انہوںنے انپی زندگیاں اللہ کے دین کی خدمت کے واسطے وقف کردی تھیں کوئی دین ترقی نہیں کرسکتا ۔جب تک خدا تعالیٰ کے احکام کو دنیا کے کل کاموں پر مقدم نہ کیا جاوے ۔معمول نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ اعمال توکرتے کرتے آخر عادت میں داخل ہو جاتے ہیں۔مثنوی رومی میں ایک شعر میں یہ مضمون خوب اداکیا گیا ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم اپنے کوٹھے میں غلہ بھرتے رہتے ہیں مگر وہ بھرنے میں نہیں آتا ۔جب دیکھو خالی ہی نظر آتا ہے ۔آخر کوئی چوہا توہے جو اس کو ٹھے کو لگا ہواہے اس کا اناج کھائے جاتا اور ایسے خالی کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ۔ہم بھر تے ہیں وہ خالی کرتا ہے ۔آخرکار دروازہ کھول کردیکھا توواقعی ایک چوہا تھا کہ اس غلہ کو کھاجایا کرتا تھا ۔پس انسان کو اپنے اعمال پر ہی راضی نہ ہونا چاہئیے۔
ریاکاری سے اعمال حبط ہو جاتے ہیں
بعض بدیوںسے بعض اعمال حبط بھی ہوجاتے ہیں ۔ریاکاری بھی حبط اعمال کے واسطے ایک خطرناک کیڑا ہے ۔مثلاً ایک مجلس میں چندہ ہوتا ہے ایک شخص اٹھتاہے میرا پانصدروپیہ لکھا جاوے ۔ اب اگر صرف دکھاوے اورواہ واہ کی آواز کی واسطے یا نام پیداکرنے کے واسطے ایسا کرتا ہے تو اس کا اجر اس نے پالیا عندا للہ اس کے واسطے کوئی اجر نہ ہوگا اس موقعہ پر ہمیں ایک نقل تذکرۃ الاولیاء کی آگئی ۔ لکھا ہے کہ ایک بزرگ تھے ان کو دس ہزار روپیہ کی سخت ضرورت پیش آگئی ۔ انہوں نے انپی ضرورت کا اظہار کیا تو ایک بزرگ تھے ان کو دس ہزار روپیہ کی تھیلی ان کے آگے لارکھی ۔ اب وہ بزرگ لگے اس شخص کی تعریف کرنے اورایک گھنٹہ تک برابر اس کی تعریف کی ۔آخر وہ شخص جس نے روپیہ دیا تھا مجلس میں سے اٹھ کھڑا ہوا ور گھر سے واپس لوٹ کر عرض کی کہ مجھ سے توسخت غلطی ہوئی ۔ اصل میں وہ روپیہ تومیر ی ماں کا تھا اور میں اس کا روپیہ خود بخود دینے کا مختار نہ تھا ۔روپیہ مجھے دے دیا جاوے ۔اب لگی اس کو بجائے تعریف کے