خدا میں فنا ہوکر وہ وہ نہیں ہوتا بلکہ خود خداہوتا ہے ۔ غرض محمد رسول اللہ کا فقرہ توحید کامل کرنے کے واسطے لازمی تھا ۔خداتعالیٰ توحید کو پسند کرتا ہے اور یہ شکر کا مقام ہے کہ یہ خصوصیت صرف اسلام میں پائی جاتی ہے جس کو آج ہم پیش کرتے ہیں ۔کسی دوسرے مذہب میں نہیں ۔ عیسائیوں کی دوڑ کفارہ مسیح تک ہے ۔باپ ‘بیٹا اورروح القدس تین ہیں ۔مگر تین مت کہو ایک کہو ۔یہ عجیب گورکھ دھند اہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ یہودی بھی بڑے سخت دل ہیں اور طرح طرح کے شرک میں مبتلا ہیں ان کو اس طرف توجہ ہی نہیں ۔ آجکل کے آریہ صاحبان جن کو اسلام کے خلاف اپنے عقائد پر بڑا گھمنڈ اورناز ہے ان کا مذہب ہے کہ روح بمع اپنے تمام صفات کے اورمادہ بمع اپنے تمام صفات کے خود بخود ہیں اوراعتقاد رکھتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ممکن نہیں ۔غرض انہوں نے ذرہ ذرہ کو خداتعالیٰ کا شریک بنارکھا ہے ۔انسانی ظاہری قویٰ کو توخداتعالیٰ کی طرف سے مانتے ہیں مگر کہتے ہیںکہ روح میں جو قویٰ ہیں وہ خود بخود ہیں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ ارواح اورذرات بمع اپنے قویٰ کے خود بخود موجود ہیں ۔خداتعالیٰ کا کام صرف انکوجوڑنا ہی ہے مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کیوں جائز نہیں کہ باہمی جوڑ ملاپ کی طاقت بھی انکی اپنی ذاتی خاصیت نہ مانی جاوے؟ غرض تازہ معجزات کے یہ لوگ منکر ہیں۔ وید ہیں معجزات کا کوئی ذکر نہیں تو پھر خداتعالیٰ کے وجود پر نشانی ہی کیا ہے ؟اوراس کی زندگی کی علامت ہی کیا ؟جب دوحصے خود بخود موجود ہیں تو پھر کیوں نہ مان لیا جاوے کہ تیسر احصہ (باہمی جڑجانے کی خاصیت )بھی خود بخود ہے۔ جب ایک اہم کام خود بخود ہے تو سہل کے واسطے کیوں کسی کی احتیاج مانی جاوے ؟ غرض یہ خداتعالیٰ کا خاص فضل ہے جو صرف اسلام ہی کے شامل حال ہے کہ اسلام کی کوئی بھی تعلیم عقل سلیم اور فطرت سلیم کی مخالف نہیں ۔ لاالٰہ الا اللّٰہ ایک قول ہے ۔اس کا عملی ثبوت بلی من اسلم وجھہ للہ وھوومحسن (البقرۃ :۱۱۳)فعل ہے ۔نراقول (ایمان کا دعویٰ )کسی کام کا نہیں اورنہ ہی وہ کچھ مفید ہوسکتا ہے ۔خشک ایمان ایک بے بال وپرمرغ کی مثال ہے جو ایک مضغہ گوشت ہے جونہ چل پھر سکتا ہے نہ اڑنے کی اس میں طاقت ہے بلکہ اسلام اس کو کہتے ہیں کہ انسان باوجود ہیبت ناک نظارے دیکھنے کے اوراس امر پر یقین ہونے کے کہ اس مقام پر کھڑا ہونا ہی گویا جان کو خطرہ میں ڈالنا ہے پھر بھی خداتعالیٰ کی راہ میں سرڈال دے اورخداتعالیٰ کی راہ میںاپنے کسی نقصان کی پروانہ کرے۔ جنگ کے موقعہ پر سپاہی جانتا ہے کہ میں موت کے منہ میں جارہاہوں اوراسے بہ نسبت زندہ پھرنے کے مرنا یقینی نظر آتا ہے مگر بایں ہمہ وہ اپنے افسر کی فرمانبرداری اوروفاداری کرکے آگے ہی بڑھتا ہے اورکسی خطرے کی پروانہیں کرتا اس کا نام اسلام ہے ۔