پاسکتی ہے ۔اگر چہ کوئی ظاہر داری کے واسطے ہاں میںہاں ملا دے مگر دل لعنت بھیجتا ہوگا اور انکار کرتا ہوگا کہ میں نہیں مانتا ۔ یادرکھو کہ اگر پہلے کبھی الہام تھا تو اب بھی ضروری ہے کہ الہام ہو۔ اسلام جب صرف ایک ہی فرقہ تھا اور مختصر بھی تو اس وقت تونبی اور رسول آنے اور الہامات ہونے کی ضرورت تھی ۔مگر اب جبکہ ایک سے تہتر فرقے ہوگئے ہیں اور تفرقہ کی حدونہایت نہیں رہی کلام الہٰی پر مہر لگائی جاتی ہے اورخداتعالیٰ کا منہ بند کیا جاتاہے ۔ کوئی فطرت سلیم اورعقل صحیح اس منطق کو قبول نہیں کرسکتی ۔
ہر چیز کے پیدا ہونے کی ماں ضرورت ہے ۔دیکھو ایک چھوٹی سی مثال ریلوے تصادم کی ہے ۔تصادم کی واردات ترقی کرنے لگیں تو اصلاح کے سامان بھی پیدا ہوگئے ۔ یہ سب طرح طرح کی کلیںجو دیکھنے میں آتی ہیں یہ سب ضرورت نے ہی مہیا کرادی ہیں ۔ثواب جبکہ انسانی حالت کیا بلحاظ اپنی ظاہری حالت کے اورکیا بلحاظ اپنی باطنی حالت کے ابتری کے انتہائی درجہ تک پہنچ گئی ہے اورہر فرقہ پر دہریت (ناستک مت )نے اپنا تسلط جمایا ہوا ہے زندہ ایمان کسی میں باقی نہیں۔ اوریہ قاعدہ کی بات ہے کہ زندہ ایمان ہی اعمال کی تحریک کرتا ہے۔جب ایمان ہی نہیں جوکہ اعمال کا اصل محرک ہے تو پھر عمل کیسے ؟
غرض اس طرح ایمان کے دنیا سے اٹھ جانے کے باعث اعمال صالحہ کا بھی ساتھ ہی نام ونشان مٹ چکا ہے تو پھر کیا وجہ کہ خداتعالیٰ نے ایسی خطرناک حالت اورایسی سخت ضرورت کے وقت بھی اپنی سنت قدیمہ کو ترک کرے کوئی رسول اور نبی یا علہم نہ بھیجا؟
کلمہ طیبہ کی حقیقت
لاالٰہ الا اللّٰہ یہ توحید کا کلمہ ہے ۔اس کے معنے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سواکوئی بھی عبادت اورسچی فرماں برداری کے لائق نہیں ہے ۔ خداتعالیٰ اگر توحید کے پھیلانے میں کسی دوسرے کا محتاج ہوتا یا کسی اورکو اس کا م میں اپنا شریک بناتا تو بھی شرک لازم آتا تھا۔ محمد رسول اللہ کا جملہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ شامل کرنے میں سریہی ہے کہ تاتوحید کا سبق کامل ہواور دنیا کو معلوم ہوکہ جوکچھ آتا ہے درحقیقت اسی خداکی طرف سے آتا ہے ۔آپ ﷺ ان ہدایت کو خداتعالیٰ سے پاکر مخلوق کو پہنچانے والے ہیں اورکہ جو کچھ ادھر سے آتا ہے وہ اسی راہ سے آتا ہے ۔
شرک صرف پتھروں ہی کے پوجنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ شرک کی ایک قسم یہ بھی لکھی ہے کہ انسان خداتعالیٰ کو چھوڑ کر صرف اسباب ہی پر تکیہ کرلے اور یہ شرک فی الاسباب کہلاتا ہے۔ برہمو وغیرہ اس رازتوحید کو نہیں سمجھتے جو خدارابخدابایدشناخت میں دکھلا یا گیا ہے ۔ خداتعالیٰ کی طرف سے آنے والا ایسا ہی ہے کہ گویا خداہی ہے ۔ انسانی گورنمنٹ کی طرف سے آنے والا نائب ہوتا ہے ۔اسی طرح سے رسول بھی