خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو اس تعلیم کی پیروی کواپنی گردن پر اٹھائے ۔
انسانی فطرت کا پورا اورکامل عکس صرف قرآن شریف ہی ہے۔ اگر قرآن نہ بھی آیا ہوتا جب بھی اسی تعلیم کے مطابق انسان سے سوال کیا جاتا کیونکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو فطرتوں میں مرکوز اورقانون قدرت کے ہر صفحہ میں مشہور ہے ۔ جن کی تعلیمات ناقص اور خاص قوم تک محدود ہیں اوروہ آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں ۔ ان کی نبوت کا دروازہ بھی ان کے اپنے ہی گھر تک محدود ہے۔ مگر قرآن شریف کہتا ہے ان من امۃ الاخلافیھا نذیر (فاطر:۲۵)دیکھو یہ کیسی پاک اوردل میں دخل کرجانے والی بات اور کیسا سچا اصول ہے مگر یہ لوگ ہیں کہ خداکی خدائی کو صرف اپنے ہی گھر تک محدود خیال کرتے ہیں۔
یہی حال آریو ں کا ہے وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ دید ہی اتاراجاتا ہے اورصرف چار آدمی ہی اس کام کے واسطے مخصوص ہیں اورہمیشہ کے واسطے زبان سنسکرت ہی خداکو پسند آگئی ہے ۔مجال نہیں کہ خداتعالیٰ کی یہ نعمت وحی والہام کسی اورانسان یازبان کو مل سکے ۔ ان لوگوں کے اعتقاد کے موجب وحی الہٰی اب آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اوراب ہمیشہ کے واسطے اس کو مہر لگ چکی ہے مگر یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح سے تو خداکی ہستی کے ثبوت میں ہی مشکلات پڑجاویں گی ۔ صرف شنید سے انسان کب مطمئن ہوسکتا ہے اورکامل یقین اورسچی معرفت صرف دوسروں کی زبانی سن لینے سے کہاں میسر آتی ہے ؎
شنیدہ کے بود مانند دیدہ
وحی والہام کی ضرورت
جب تک خداخود اناالموجود کی آواز نہ دے یا اپنے پیار ے کلام سے اور زبردست غیبی نشانات سے اپنا چہرہ نہ دکھا دے تب تک وہ پیاس کب مٹ سکتی ہے جو حق کی طلب کی پیاس انسان کو لگی ہوئی ہے ۔یہ کہنا کہ خداسچے تو نشانات اورمعجزات دکھاتا تھا ۔رسول بھیجتا تھا مگر اب نہیں ۔یہ نعوذ باللہ خداتعالیٰ کی ذات کی محنت توہین اوربے ادبی ہے ۔۱؎ کیا وجہ ہے کہ اب وہ سنتا تو ہے اوردیکھتا بھی ہے مگر بولتا نہیں ؟اچھا تو اس پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ قوت شنوائی اوربینائی بھی قوت گویائی کی طرح جاتی نہیں رہیں۔
انسان اپنی فطرت سے الگ نہیں ہوسکتا ۔ بکری سے بھیڑیئے کا کام لیں تو دے سکتی ہے ؟ہرگز نہیں ۔پس یہی حال فطرت انسانی کا ہے کہ انپی بناوٹ کے خلاف ہرگز نہیں چل سکتی ۔ نرے قصوں سے کب وہ تسلی
۱؎ بدر سے :۔ ’’اب خداکا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں ۔‘‘ (بدر جلد ۷ نمبر ۲۵صفحہ ۶مورخہ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ )