غضبی بھی ہے قوت انتقام بھی ہے ۔یہ قویٰ بے کار یا فضول نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی بداستعمالی اورانکابے محل وبے موقع استعمال برا ہے ۔انجیل میں تو ایک موقعہ پر خصی بن جانے کی بھی تعلیم دی گئی ہے ۔ اگر سچے عیسائی اس تعلیم کا عملی نمونہ بنتے تویقین ہے کہ دنیا کا خاتمہ ہ ہوگیا ہوتا ۔ عجیب بات یہ ہے کہ صرف حکم ہی نہیں بلکہ اس عمل پر پڑے ثواب کا وعد ہ کیا گیا ہے توپھر کیا وجہ کہ ایسے کارخیر میں کوئی عیسائی بھی حصہ نہیں لیتا ۔
قرآن شریف میں کوئی دکھاتودے کہ کوئی ایسا حکم بھی دیا گیا ہو جس پر عمل کرنا انسانی طاقت سے بالاتر ہو یا کوئی ایساحکم بھی ہو جس کے کرنے سے کوئی قباحت لازم آتی ہو یا نظام دین میں فساد کا اندیشہ ہو۔کیا ایسی ایک کتاب جس میں ایسے احکام داخل ہیں جو انسانی طاقت سے بالاتر ہیں یا ان کے کرنے سے کوئی قباحت لازم آتی ہے اورنظام عالم درہم برہم ہوتا ہے ۔کبھی اس خداکی طرف منسوب ہوسکتی ہے جو خالق فطرت اورمنتظم نظام دنیا اور قوائے انسانی کے پورے اندازے جاننے والا ہے اور کیا وہ کتاب کامل اور مکمل شریعت کہلانے کی مستحق ہوسکتی ہے ؟
میں اعتراض نہیں کرتا بلکہ میرا مقصد اس بیان سے اس امر کا اظہار ہے کہ یہ دونو کتابیں صرف ایک ہی خاندان کی تھیں ۔ نہ حضرت عیسیٰؑ نے اورنہ حضرت موسیٰؑ نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ تمام دنیا کے واسطے رسول ہو کرآئے تھے بلکہ وہ توصرف اسرائیلی بھیڑوں تک ہی اپنی تعلیم محدود کرتے ہیں۔ ان کا اپنا اقرار موجود ۱؎ہے ۔پس بلحاظ ضرورت کے ان کو جوکتاب ملی وہ بھی ایک قانون مختص الزمان اورمختص القوم تھا۔
اب ظاہر ہے کہ ایک چیز جو ایک خاص ضرورت کے لئے ایک خاص زمانے اورمکان کے واسطے آئی تھی ۔اگر اس کو زبردستی اورخواہ نخواہ تمام دنیا پر محیط ہونے کے واسطے کھینچ تان کی جائے گی تو اس کا لازماً یہی نتیجہ ہوگا کہ وہ اس کام سے عاری رہے گی جس بوجھ کے اٹھانے کے واسطے وہ وضع ہی نہیں کی گئی اس کی کیسے متحمل ہوسکے گی ؟اوریہی وجہ ہے کہ ان تعلیمات میں موجوودہ زمانہ کے حالات کے ماتحت نقص ہیں ۔مگر قرآن مجید مختص الزمان نہیں ‘مختص القوم نہیں اور نہ ہی مختص المکان ہے بلکہ اس کامل اورمکمل کتاب کے لانے والے کا دعویٰ ہے کہ انی رسول اللہ الیکم جمیعا(الاعراف :۱۵۹)اور ایک دوسری آیت میں یوں بھی آیا ہے ۔لانذرکم بہ ومن بلغ (الانعام :۲۰)یعنی لازمی ہوگا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ
۱؎ بدر سے :۔ ’’چنانچہ حضرت عیسیٰؑ نے خود کہا کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اورکسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ قرآن مجید سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے ۔ ورسولا لی بنی ٓ اسرآئیل (آل عمران :۵۰)
(بدر جلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۶مورخہ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ)