ہیں کہ ان کا اس تعلیم پر کہانتک عمل درآمد ہے ۔انہوںنے اس تعلیم کا عملی نمونہ کیادکھایا ہے کہ دوسروں کو بھی اس تعلیم کی طرف بلاتے ہیں۔ پھراسی انجیل میں لکھا ہے کہ تو بدی کا مقابلہ نہ کر ۔غرض انجیل کی تعلیم تفریط کی طرف جھکی ہوئی ہے اوربجز بعض خاص حالا ت کے ماتحت ہونے کے انسان اس پر عمل کرہی نہیں سکتا۔ دوسری طر ف توریت کی تعلیم کو دیکھا جاوے تووہ افراط کی طرف جھکی ہوئی ہے اور اس میں بھی صرف ایک ہی پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ جان کہ بدلے جان ‘آنکھ کے بدلے آنکھ اورکان کے بدلے کان اوردانت کے بدلے دانت توڑ دیا جاوے۔ اس میں عفو اوردرگذر کا نام تک بھی نہیں لیا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ کتابینں مختص الزمان اور مختص القوم ہی تھیں مگر قرآن شریف نے ہمیں کیا پاک راہ تبائی ہے جو افراط اورتفریط سے پاک اورعین فطرت انسانی کے مطابق ہے مثلاً مثال کے طور پر قرآن شریف میں فرمایا ہے جزواسیئۃ مثلھافمن عفاواصلح فاجرہ علی اللہ (الشوریٰ :۴۱)یعنی جتنی بدی کی گئی ہو اسی قدر بدی کرنی جائز ہے لیکن اگر کوئی معاف کردے اور اس معافی میں اصلاح مدنظر ہو۔بے محل اوربے موقعہ عفو نہ ہوبلکہ برمحل ہوتو ایسے معاف کرنے والے کے واسطے اس کا اجر ہے جواسے خداسے ملیگا ۔ دیکھو کیسی پاک تعلیم ہے نہ افراط نہ تفریط ۔ انتقام کی اجازت ہے مگر معافی کی تحریص بھی موجود ہے ۔بشرط اصلاح یہ ایک تیسر امسلک ہے جو قرآن شریف نے دنیا کے سامنے رکھا ہے ۔اب ایک سلیم الفطرت انسان کا فرض ہے کہ ان میں خود موازنہ اورمقابلہ کرکے دیکھ لے کہ کونسی تعلیم فطرت انسانی کے مطابق ہے اورکونسی تعلیم ایسی ہے کہ فطرت صحیح اور کانشنس اسے دھکے دیتی ہے ۔یہودیوں میں باپ اپنی اولاد کو وصیت کرتا تھا کہ میرا انتقام میر ابیٹا لے‘میرا پوتا لے ۔چنانچہ بعض اوقات بیٹا اورپوتا باپ کے انتقام لیتے تھے ۔غرضکہ توریت میں تو سخت تشدد کیا گیا تھا ۔ باقی رہی انجیل ۔سواس کی اخلاقی تعلیم پر ناز کرنے والے نہیں سمجھتے کہ اول تو وہ تعلیم ہی اسی ناقص ہے کہ بوجہ مختص الزمان اور مختص القوم ہونے کے آج اس کی ضرورت ہی نہیں اور نہ وہ اس وقت اخلاقی تعلیم کہلانے کی مستحق ہے اوراگر مان بھی لیا جائے توکوئی شخص نہیں کہ اس تعلیم کا عامل نظر آتا ہو ۔ خود اس کے شیفتہ لوگ ہی اس کا عملی نمونہ پیش کریں۔ اصل میں یہ ہاتھی کے دانت ہیں کھانے کے اور دکھانے کے اور۔تاہم فلسفہ حقہ اس کے بالکل خلاف ہے ۔انسان ایک شاخ دار درخت ہے اور انجیلی تعلیم اس کی صرف ایک شاخ ۔کیا باقی قوائے انسانی بے کار ہیں؟ یادرکھو کہ کل قوائے انسانی اسی خالق فطرت ہی کی طرف سے انسان کوملے ہیں۔ان میں ایک قوت