اے کہ خواندی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں حقیقی راحت دین سے ہی وابستہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں کہ انکی نظرمیں دین ایک جنون ہے اور اس کی قدر ان کے دلوں میں نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ عرب کے لوگ وحشی تھے اورامی تھے۔ اس وقت ان کی ضرورتوں کے مناسب حال قرآن نازل ہوا۔ اب دنیا ترقی کرگئی ہے اورروشنی کا زمانہ ہے۔اب موجود ہ زمانہ کے مناسب حال دین میں ترمیم ہونی چاہئیے مگر آپ لو گ سن رکھیں کہ دین کوئی لغونہیں ہے بلکہ دنیا کی حقیقی راحت اوراخروی نجات اس دین سے ہی وابستہ ہے وہ عرب کے امی جو اس دین کے سچے خادم تھے ۔ ان کا امی ہونا بھی ایک معجزہ ہی تھا تاکہ دنیا کو دکھا دے کہ امی لوگوں نے قرآنی تعلیم کے نیچے آکر کیا کچھ کردکھایا کہ بڑے بڑے علوم کے مدعیوں سے بھی انکے مقابلہ میں کچھ بن نہ آیا ۔ قرآن کریم کی پاک تعلیم کا انجیل سے موازنہ خداتعالیٰ خوب جانتا تھا کہ اس زمانہ میں کیسے کیسے جدید علوم پیدا ہوں گے اور خود مسلمانوں میں کیسے کیسے خیالات کے لوگ پیدا ہوجائیں گے ۔ان سب باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دے رکھا ہے اورکوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کرسکے اورکوئی صداقت نہیں کہ اب پیدا ہوگئی ہو اوروہ قرآن شریف میں پہلے ہی سے موجود نہ ہو ۔ جوراہ قرآن شریف نے پیش کی ہے وہ نہ انجیل میں پائی جاتی ہے نہ توریت میں اس کا پتہ چلتا ہے اورنہ ہی دنیا کی کوئی اور کتاب اس کمال اور جامعیت کا دعویٰ کرسکتی ہے جواللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے قرآن شریف کو عطاکی ہے ۔قرآن کے مقابل پر ان کاذکر ہی کیا ہے ۔انجیل نے ایک ضعیف ناتواں انسان کو خدابنایا مگر اس کی طاقت کا اندازہ قوم یہود کے مقابلہ سے ہی ہوسکتا ہے ۔ دوسری بات اورمایہ ناز انجیل کی اخلاقی تعلیم تھی مگروہ ایسی بودی اور نامکمل ہے کہ کوئی صحیح الفطرت انسان اس کی پابندی نہیں کرسکتا بلکہ خود پادری صاحبان کاعمل بھی اس تعلیم کے بالکل برخلاف ہے ۔مثلاً انجیل تعلیم دیتی ہے کہ اگر تجھے کوئی ایک طمانچہ مارے توتودوسری گال پھیردے اوراگر کوئی تیراکر تہ مانگے تو اس کو چادر بھی اتار دے اوراگر کوئی تجھے ایک کوس بیگا ر میں لے جانا چاہے توتودوکوس اس کیساتھ چل ۔ اب ہم اول ان انجیل کی حمایت اورتعریف کرنے والے پادری صاحبوں سے ہی دریافت کرتے