سرسبز ی اورکھیتوں کا ہرابھرا ہونا آسمانی بارش پر موقوف ہے اوراگر آسمانی بارش نہ ہوتو زمین پر کوئی سبزی نہیں رہ سکتی اور زمین مردہ ہوجاتی ہے بلکہ کنوئوں کا پانی بھی خشک ہوجاتا ہے اوردنیا زیر وزبر ہوکر ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے اورلوگ بھوکے پیاسے مرتے ہیں ۔قحط کی وجہ سے انسان وحیوان اورپھر چرندوپرنداوردرند وغیرہ پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے ۔بعینہٖ اسی طرح سے ایک روحانی سلسلہ بھی ہے ۔ یادرکھو کہ خشک ایمان بجز آسمانی بارش کے جومکالمہ مخاطبہ کے رنگ میں نازل ہوتی ہے ۔ہرگز ہرگز باعث نجات یا حقیقی راحت کا نہیں ہوسکتا ۔جو لوگ روحانی بارش کے بغیر اورکسی مامور من اللہ کے بغیر نجات پاسکتے ہیں اوران کو کسی مزکی اور مامورمن اللہ کی ضرورت نہیں ۔سب کچھ ان کے پاس موجود ہے ۔ان کو چاہئیے کہ پانی بھی اپنے گھروں میں ہی پیدا کرلیا کریں ۔۱؎ان کو آسمانی بارش کی کیا احتیاج ؟آنکھوں کے سامنے موجود ہے کہ جسمانی چیزوں کا مدارکن چیزوں پر ہے ۔پس اس سے سمجھ لوکہ بعینہٖ اسی کے مطابق روحانی زندگی کے واسطے بھی لازمی اورلابداورضروری ہے ۔ انسان کا یہ دعویٰ کہ میں نے سب کچھ سیکھ لیا ہے اورمیں نے سارے علوم حاصل کرلیے ہیں یہ بالکل غلط خیال ہے۔ انسا ن کا علم کیا ہے جس طرح سمند ر میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لی جاوے ۔یہی حال انسان کے علم کا ہے کہ اس کو معارف اورحقائق میں سے دیا گیا ہے ۔؎ ترسم نہ رسی بہ کعبہ اے اعرابی کیں راہ کہ تو میروی بترکستان است پھر تعجب آتا ہے کہ بعض لوگ معمولی مروجہ علوم کے پڑھ لینے سے بڑے بڑے دعوے کر بیٹھتے ہیں حالانکہ دین کی راہ ایک عمیق درعمیق راہ ہے اور اس کے حقائق اور روحانی فلسفہ ایسا نہیں کہ ہر فرد اس کا ماہر ہونے کا دعویٰ کرسکے ۔یہ دین آسمان سے ہی آیا اور ہمیشہ ہمیشہ اس کی سرسبزی کے سامان بھی آسمان ہی سے نازل ہوتے رہیں گے ۔ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اگر زمینی علوم اورمروجہ تعلیم یا فتوں سے سوال کیا جاوے تو اکثر اصحاب ایسے نکلیں گے کہ ان کے ماہر ہی ہوں گے ۔مگر ہمیں اس جگہ ان اصحاب کی خدمت میں کہ وہ زمینی اوردنیوی علوم کے ماہر ہیں یہ بھی کہنا ہے کہ ؎ ۱؎ بدر سے :۔ ’’جو لوگ کہتے ہیں ہمیں اب نبیوں کی کیا ضرورت ہے وہ جسمانی بارش کیوں مانگتے ہیں (بدر جلد ۷نمبر ۲۵ صفحہ ۵مورخہ ۲۵ جون ۱۹۰۸ئ؁ ) ۲؎ بدر سے :۔’’جو شخص دین سے بہر ہ نہ رکھے اورپھر دعویٰ کرے کہ مجھے دوسرے کی کچھ ضرورت نہیں وہ نادان ہے ۔‘‘(بدرحوالہ مذکور )