کہ انسان نفس امارہ اورپھر نفس لوامہ کی مشکلات کو حل کرجائے اوراس جنگ میں اس کو فتح نصیب ہو۔نفس امارہ انسان کا دشمن ہے اوروہ گھر کا پوشیدہ دشمن ہے ۔ لوامہ بھی کبھی کبھی دشمنی کا ارادہ کرتا ہے مگر باز آجاتا ہے مگر برخلاف ان دونوں حالتوں کے جب انسان ترقی کرکے نفس مطمئنہ کے درجہ تک ترقی کرجاتا ہے تواس کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ گویا اس کا دشمن اس کے زیر ہوگیا اوراس نے دشمن پر نمایاں فتح حاصل کرلی اورصلح ہوگئی ۔انسان ترقیات کی آخری حداور اس کی زندگی کا انتہائی نقطہ اسی بات پر ختم ہوتا ہے کہ انسان حالت مطمئنہ حاصل کرلے اور وہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ اس کی رضا خداکی رضا اور اس کی ناراضگی خداتعالیٰ کی ناراضگی ہوجاتی ہے اس کا ارادہ خداتعالیٰ کا اراداہ ہوتا ہے اور وہ خداکے بلائے بولتا اورخداکے چلائے چلتا ہے ۔تمام افعال حرکات وسکنات اس سے نہیں بلکہ خداسے سرزدہوتے ہیں اورانسان کی پہلی حالت پر ایک قسم کی موت وارد ہوجاتی ہے اورایک نئی زندگی کا جامہ اسے ازسر نو عطا کیا جاتا ہے ۔
غرض قانون قدرت میں ایسا پایا جاتا ہے کہ خداتعالیٰ نے دوسلسلے پہلو بہ پہلو بنائے ہیں ایک جسمانی اوردوسرا روحانی ۔جوکچھ جسمانی طورسے مہیا ہے وہی روحانی طورسے بھی ہوتا ہے ۔پس جو شخص ان دونو سلسلوں کو نصب العین رکھ کر کاروبار میں کوشش اورمحنت کریگا وہ جلدی ترقی کرے گا۔ اس کی معلومات وسیع ہوں گی۔ ہر صورت میں ہرجسمانی کام ان کے روحانی امور کے مشابہ ہوگا۔ الدنیا مزرعۃ الاخرۃ۔
ہر زمانہ میں مزکی اورمامورمن اللہ کی ضرورت
ہم جسمانی نظام میں دیکھتے ہیں کہ جسمانی کاشتکار باوجود ہر قسم کی باقاعدہ محنت ومشقت کے بھی پھر آئی پانی کا محتاج ہے اوراگر اس کی محنتوں اور کوششوں کے ساتھ آسمانی پانی اس کی فصل پر نہ پڑے توفصل تباہ اور محنت برباد ہوجاتی ہے ۔پس یہی حال روحانی رنگ میں ہے انسان کو خشک ایمان کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔جب تک کہ روحانی بارش نازل ہوکر بڑے زورکے نشانات سے اس کے اندرونی گنددھوں کر اس کو صاف نہ یکرے ۔چنانچہ قرآن شریف اسی کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہے ۔والسمآء ذات الرجع والارض ذات الصدع (الطارق :۱۲‘۱۳)یعنی قسم ہے آسمان کی جس سے بارش نازل ہوتی ہے اورقسم ہے زمین کی جس سے شگوفہ نکلتا ہے ۔بعض لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ خداکوقسم کی کیا ضرورت تھی مگر ایسے لوگ آخر کار اپنی جلد بازی کی وجہ سے ندامت اٹھاتے ہیں ۔قسم کا مفہوم اصل میں قائمقام ہوتا ہے شہادت کے ۔ ہم دنیوی گورنمنٹ میں بھی دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات مقدمات کے فیصلوں کا حصر ہی قسم پر رکھا جاتا ہے ۔پس اسی طرح سے خداتعالیٰ بھی بارش آسمانی کی قسم کھا کر نظام جسمانی کی طرح نظام روحانی میں اس بات کو بطور ایک شہادت کے پیش کرتا ہے کہ جس طر ح سے زمین کی