نہیں اسی طرح ایمان بے عمل صالح بھی کسی کام کا نہیں۔ پھر ایک دوسری جگہ پر ایمان کو اشجار (درختوں )سے تشبیہ دی ہے اورفرمایا ہے کہ وہ ایمان جس کی طرف مسلمانوںکو بلایا جاتا ہے ۔ وہ اشجار ہیںاور اعمال صالحہ ان اشجار کی آبپاشی کرتے ہیں ۔غرض اس معاملہ میں جتنا جتنا تدبر کیا جاوے اسی قدر معارف سمجھ میں آوینگے جس طرح سے ایک کسان کا شتکارکے واسطے ضروری ہے کہ وہ تخمریزی کرے ۔ اسی طرح روحانی منازل کے کاشتکار کے واسطے ایمان جو کہ روحانیت کی تحمریزی ہے ضروری اورلازمی ہے اور پھر جس طرح کاشتکار کھیت یا باغ وغیر ہ کی آبپاشی کرتا ہے اسی طرح روحانی باغ ایمان کی آبپاشی کے واسطے اعمال صالحہ کی ضرورت ہے ۔ یادرکھو کہ ایمان بغیر اعمال صالحہ کے ایسا ہی بیکار ہے جیساکہ ایک عمدہ باغ بغیر نہر یا دوسرے ذریعہ آبپاشی کے نکما ہے ۔درخت خواہ کیسے ہی عمدہ قسم کے ہوں اوراعلیٰ قسم کے ہوں اور اعلیٰ قسم کے پھل لانے والے ہوں مگر جب مالک آبپاشی کی طرف سے لاپروائی کرے گا تو اس کا جو نتیجہ ہوگا وہ سب جانتے ہیں ۔ یہی حال روحانی زندگی میں شجر ایمان کا ہے ۔ایما ن ایک درخت ہے جس کے واسطے انسان کے اعمال صالحہ روحانی رنگ میں اسکی آبپاشی کے واسطے نہریں بن کر آبپاشی کا کام کرتے ہیں پھر جس طرح ہر ایک کاشتکار کو تخمریزی اورآبپاشی کے علاوہ بھی محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے اسی طرح خداتعالیٰ نے روحانی فیوض وبرکات کے ثمرات حسنہ کے حصول کے واسطے بھی مجاہدات لازمی اور ضروری رکھے ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے والذین جاھدوا فینا لنھد ینھم سبلنا۔۱؎ (العنکبوت :۷۰) نفس انسانی کی تین حالتیں نفس انسانی ایک بیل کے مشابہ ہے اوراسکے تین درجے ہوتے ہیں ۔ نفس امارہ ۔امارہ مبالغہ کا صیغہ ہے ۔امارہ کہتے ہیں بدی کی طر ف لے جانے والا۔ بہت بدی کا حکم کرنے والا ۔۲؎ دوسری قسم نفس کی نفس لوامہ ہے ۔لوامہ کہتے ہیں ملامت کرنے والے کو ۔انسان سے ایک وقت بدی ہوجاتی ہے مگر ساتھ ہی اس کا نفس اس کو بدی کی وجہ سے ملامت بھی کرتا اور نادم ہوتا ہے ۔یہ انسانی فطرت میں رکھا گیا ہے مگر بعض طبائع ایسے بھی ہیں کہ اپنی گندہ حالت اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے وہ ایسے محجوب ہو جاتے ہیں کہ ان کی فطرت فطرت سلیم کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی ۔ان کو اس ملامت کا احسا س ہی نہیں ہوتا مگر شریف الطبع انسان ضرور اس حالت کا احساس کرتا اور بعض اوقات وہی ملامت نفس اس کے واسطے باعث ہدایت ہوکر موجب نجات ہوجاتی ہے ۔مگر یہ حالت ایسی نہیں کہ اس پر اعتبار کیا جاوے ۔ نفس کی ایک تیسری حالت ہے جسے مطمئنہ کے نام سے پکاراگیا ہے اور وہ انسان کو جب حاصل ہوتی ہے ۱؎ بدر سے :۔’’یعنی تم ہلکے ہلکے کام پر نہ رہو بلکہ اس راہ میں بڑے بڑے مجاہدات کی ضرورت ہے ۔‘‘(بدرجلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۵ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ؁ ) ۲؎ بدر سے :۔’’بدی کی طرف باربار جانے والا (بدر جلد ۷نمبر ۲۵ صفحہ ۵ ۲۵ جون ۰۸ ۱۹ئ؁)