کوئی انتظام نہیں ہو سکتا۔ اس واسطے ایک سرمایہ کے ساتھ ایک کمپنی بنانی چاہیئے اور ایک کارخانہ مطبع کا بنانا جاہیئے جو کہ دہلی میں قائم ہو۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ :۔ ہمیں ایسی کمپنی بنانے کی ثلج صدر نہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا انجام اچھا ہو۔ بہت سے لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جو دینی علوم سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے ان کی تصانیف بجائے فائدہ کے ضرررساں ہوتی ہیں ۔ اس قسم کی تصانیف پہلے قادیان میں آنی چاہئیں اور یہاں لوگ اس کو دیکھیں اور اس پر غور کریں کہ آیا وہ چھینے کے قابل بھی ہیں یا کہ نہیں۔ اول تو اس قسم کے آدمی پیدا ہو جانے چاہئیں جو دینی علوم سے پوری واقفیت رکھنے والے ہوں۔ عالم باعمل ہوں تاکہ ان کی تحریر اور تقریر کا دوسروں پر اثر بھی ہو سکے۔ ایک آدمی جس کے دل میں یہ بات ہوکہ خدا کے واسطے کام کرے وہ کروڑوں آدمی سے بہتر ہے ۔ مولوی سید محمد احسن صاحب:۔ فرمایا: مولوی سید محمد احسن صاحب بحث مباحثہ کے کام ہیں اور مناظرہ میں یکتا ہیں۔ وہ پورے تحصیل یافتہ ہیں۔ علم حدیث اور علم فقہ کے بڑے ماہر ہیں۔ مخالف مولویوں کے مقابلہ میں سلسلہ تصانیف کاکام خوب کر سکتے ہیں۔ ہر شخص کاکام نہیں کر ایسے امور میں مداخلت کرے۔ کلام پڑھ کر پھونکنا :۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ مجھے قرآن شریف کی کوئی آیت بتلائی جاوے کہ میں پڑھ کر اپنے بیمار دم کروں تاکہ اس کو شفا ہو۔ حضرت نے فرمایا:۔ بے شک قرآن شریف میں شفا ہے ۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں کا وہ علاج ہے مگر اس طرح کے کلام پڑھنے میں لوگوں کو ابتلاء ہے۔ قرآن شریف کو تم اس امتحان میں نہ ڈالو۔ خدا تعالیٰ سے اپنے بیمار کے واسطے دُعا کرو۔ تمہارے واسطے یہی کافی ہے۔ ۲؎ ۲۰؍اکتوبر۱۹۰۶ئ؁ صاحب نور کابلی رضی اللہ عنہ :۔ صاحب نور مرحوم کا ذکر تھا۔ حضرت نے