گذشتہ بزرگ جو گذر چکے ہیں اگر انہوں نے مسئلہ وفات مسیح کو نہ سمجھا ہواور اس میں غلطی کھائی ہوتو اس سبب سے ان پر مواخذہ نہیں کیونکہ ان کے سامنے یہ بات کھول کر بیان نہیں کی گئی تھی اور یہ مسائل ان کی راہ میں نہ تھے۔ انہوں نے اپنی طرف سے تقویٰ و طہارت میں حتی الوسع کوشش کی ۔ ان لوگوں کی مثال اُن یہودی فقہاء کے ساتھ دی جا سکتی ہے جو کہ بنی اسرائیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے گذر چکے تھے اور ان کا عقیدہ پختہ تھا کہ آخری نبی جو آنے والا ہے وہ حضرت اسحٰق ؑ کی اولاد میں سے ہوگا اور اسرائیلی ہوگا وہ مر گئے اور بہشت میں گئے ، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے یہ مسئلہ روشن ہوگیا کہ آنے والا آخری نبی بنی اسمٰعیل میں سے ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا تب بنی اسرائیل میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے وہ کافر قرار دیئے گئے اور لعنتی ہوئے اور آج تک ذلیل اور خوار اور دربدر مصیبت زدہ ہو کر پھر رہے ہیں۔
سلطنتِ عثمانیہ:۔
سُلطان روم کا کچھ ذکر تھا۔ فرمایا:۔
ان لوگوں میں رُوحانیت نہیں معلوم ہوتی ورنہ وہ یورپ کے محتاج نہ ہوتے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ حرمین کی حفاظت کرتا ہے یہ غلط ہے بلکہ حرمین اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ورنہ وہ کرتا ہی کیا ہے ؟ آج تک بدوئوں تک کا انتظام نہیں کر سکا۔ ہر سال غریب حاجی اس کثرت کے ساتھ قتل کئے جاتے ہیں اور لوٹے جاتے ہیں اور وہ کچھ انسداد نہیں کر سکتا۔ اگر اسلامی روحانیت اس میں ہوتی تو وہ اکیلا بیس سلطنتوں کے مقابلہ کے واسطے بھی کافی تھا چہ جائیکہ اب اپنی سلطنت کا سنبھالنا بھی مشکل ہورہا ہے ۔ سب مخلوق خدا تعالیٰ کی ہے اور سب کے دل اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ سب پر غالب ہے جو خدا کا بنتا ہے خدا اسے سب پر غالب کر دیتاہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں رہتا۔۱؎
۱۸؍اکتوبر۱۹۰۶ئ
جماعتی تصانیف مرکز سے منظور ہو کر شائع ہوں :۔
دہلی سے ایک دوست کی تحریری تحریک پیش ہوئی کہ اپنی جماعت کے بہت سے دوست سلسلہ کی تائید میں کتابیں لکھتے ہیں مگر ان کے چھپوانے کا