احمد۳؎ نور کو مخاطب کرکے فرمایا کہ خدا اس کو بہشت نصیب کرے ۔ میں اس کی اچانک موت کی خبر سن کر صدمہ سے خود بیمار ہوگیا تھا اس واسطے جنازہ پڑھنے کے واسطے باہر نہ آسکا۔ مولوی احمد نور صاحب نے ذکر کیا کہ رات بھر قرآن شریف پڑھتا رہا تھا اور صبح کو بالکل تندرست دکان پر بیٹھا تھا۔ اچانک موت آگئی۔ دوسرے لوگوں نے ذکر کیا کہ نیک آدمی تھا۔ دنیاوی دھندوں جھگڑوں کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا علیحدہ رہتا تھا ۔ حضرت نے فرمایا:۔ وہ تو دنیوی تعلقات پہلے ہی چھوڑ کر اور ہجرت کرکے قادیان میں آبسا تھا۱؎ بلا تاریخ۲؎ نماز میں بے حضوری کا علاج:۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ جب میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے حضور قلب حاصل نہیں ہوتا۔ کیا اس صورت میں میری نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟ فرمایا:۔ انسان کی کوشش سے جو حضور قلب حاصل ہوسکتا ہے وہ یہی ہے کہ مسلمان وضو کرتا ہے۔ اپنے آپ کو کشاں کشاں مسجد تک لے جاتا ہے۔ نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی کوشش ہے اس کے بعد حضور قلب کا عطا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے ۔ انسان اپنا کام کرتا ہے ۔ خدا تعالیٰ بھی ایک وقت پراپنی عطا نازل کرتا ہے۔ نماز میں بے حضوری کا علاج بھی نماز ہی ہے ۔ نماز پڑھتے جائو۔ اس سے سب دروازے رحمت کے کھل جاویں گے۔ ۳؎