اس کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے ۔یہی حال ان لڑکوں کا ہے جن کو پہلے فلسفہ اورسائنس کے زہریلے علوم سکھا کر خود خداکی ہستی پر ہی شبہات پیدا کرادئیے جاتے ہیں اورپھر ان سے امید کی جاتی ہے کہ و ہ اسلام کے بھی شیفتہ ہوں ۔۱؎ علوم جدیدہ کے حملے کا علاج ہمارایہ ایمان ہے کہ کوئی فلسفہ اورسائنس خواہ وہ اپنی اس موجودہ حالت سے ہزار درجہ ترقی کرجاوے مگر قرآن ایک ایسی کامل کتاب ہے کہ یہ نئے علوم کبھی بھی اس پر غالب نہیں آسکتے ۔ مگر اس شخص کی نسبت ہم کیونکر ایسی رائے قائم کرسکتے ہیں کہ جس کی نسبت ہمیں معلوم ہے کہ اس کو علوم قرآن سے مس ہی نہیں اورا س نے اس طرف کبھی توجہ ہی نہیں کی بلکہ کبھی ایک سطر بھی قرآن شریف کی غوروتدبر کی نظر سے نہیں پڑھی ۔ مثال کے طورپر قرآن کی تعلیم روحانی کا ایک فلسفہ بیان ہواہے جو بعد الموت اعمال کے نتیجہ میں انسان کو بہشت کے رنگ میں ملے گا جس کے نیچے نہریں چلتی ہو ں گی ۔ بظاہر یہ ایک قصہ ہے مگر قصہ نہیں گوکہ قصہ کے رنگ میں آگیا ہے ۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ اس وقت کے لوگ علوم روحانی کے نہ جاننے کی وجہ سے نادان بچوں کی طر ح تھے ۔ ایسے باریک اورروحانی علوم کے سمجھانے کے واسطے ان کے مناسب حال استعاروں سے کام لینا اور مثالوں کے ذریعہ سے اصل حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنا ضروری تھا۔ اسی واسطے قرآن شریف نے بہشت کی حقیقت سمجھانے کے واسطے اس طریق کو اختیار کیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ مثل الجنۃ التی وعد المتقون (محمد :۱۶)یہ ایک مثال ہے نہ کہ حقیقت ۔ قرآن شریف کے ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ وہ جنت کوئی اور ہی چیز ہے اور حدیث میں صاف یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ان ظاہری جسمانی دنیوی امور پر نعماء جنت کا قیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہ ایسی چیز ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی وغیرہ ۔مگر وہ باتیں جن کی مثال دے کر جنت کی نعماء کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ توہم دیکھتے بھی ہیں اورسنتے بھی ہیں ایک مقام پر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ۔وبشر الذین امنوا وعملو االصالحات ان لھم جنت تجری من تحتھا الانھار(البقرۃ :۲۶) اس آیت میں ایمان کو اعمال صالحہ کے مقابل پر رکھا ہے جنات اورانہار ۔ یعنی ایمان کا نتیجہ توجنت ہے اور اعمال صالحہ کا نتیجہ انہار ہیں ۔پس جس طرح باغ بغیر نہر اورپانی کے جلدی برباد ہوجانے والی چیز ہے اوردیرپا ۱؎ بدر سے :۔ ’’پادریوں کے یا آریوں کے مدرسوں میں اپنی اولاد کو بھیج دینا اور پھر ان سے اس بات کا طلبگار ہونا کہ یہ سچے مسلمان ہوں ؎ ایں خیال است ومحال است وجنوں‘‘ (بدر جلد ۷نمبر ۲۵ صفحہ ۴)