ہوئے ہیں کہ جس پہلو پر نظر ڈالو کوئی بھی خوش کن نہیں ۔ بیرونی طورپراسلام پر اس قدر حملے ہوئے ہیں اوراسلام نے اس قدر صدمے اٹھائے ہیں کہ ایک بہت بڑا حصہ مسلمانوںکا ان سے متاثر ہوکر خود دین سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا ہے ۔ اورپھر انکے بعد ایک بہت بڑا حصہ مذبذب لوگوں کا پیدا ہوچکا ہے ۔جن کو اسلام کے متعلق اطمینان حاصل نہیں اور وہ بالکل کمزورہیں ۔ باقی یقین کامل رکھنے والے اورعلیٰ وجہ البصیرۃ اسلام پر ایمان لانے ولاے بہت ہی قلیل ہیں ۔ کئی قسم کے حملے ہورہے ہیں ۔ منقولات کے اسلحہ اسلام پر چلائے جاتے ہیں ۔ اورآریہ اورپادری لوگ اعتراضات کی بوچھاڑ کررہے ہیں۔ اگر چہ وہ جانتے ہیں کہ خود وہ گندے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بلکہ نکتہ چینی کرنا سہل ہے مگر خوبی بیان کرنا مشکل ۔ علوم جدید ہ کا حملہ علوم جدیدہ کا بھی ایک قسم کا اسلام پر حملہ ہے ۔ آجکل کی تعلیم ‘فلسفہ ‘طبعی اورہیئت بھی انسان کو ایک غلطی میں ڈالتی ہے ۔ میں تجربہ سے دیکھ رہا ہوں کہ اکثر جنہوں نے خواہ مکمل طور سے ان علوم کو حاصل کیا ہو خواہ ناقص طورسے وہ عموماً بے قید زندگی اختیار کرلیتے ہین اورپھر رفتہ رفتہ اسلام اورآنحضرت ﷺ کی عزت ہی ان کے دلوں سے اٹھ جاتی ہے اورپھر نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ خود خداسے بھی انکار کربیٹھتے ہیں ۔ ان کے کلام سے ہی ایک قسم کی بدبو آتی ہے اوروہ ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ آج بھی ہاتھ سے گئے اورکل بھی گئے اور درحقیقت اس گروہ کا حملہ آریوں اورپادریوں کے حملوں سے بھی بڑھا ہوا ہے ۔ کیونکہ ان کے اعتراض عموماً منقولات کے رنگ میں ہوتے ہیں ۔ ان میں صدق وکذب کا احتمال ہوتا ہے مگر یہ لوگ تو اپنا ذاتی تجربہ اورروزانہ مشاہدہ پیش کرتے ہیں ۔ اسی وجہ سے اس کا اثر بہت سخت اور برا پڑاہے ۔ غرض سچی بات یہی ہے کہ اندرونی حملے بیرونی حملوں سے بہت بڑھے ہوئے اور خطرناک اورزہریلا اثر ڈالنے والے ہیں۔ سچ ہے کہ ازمااست کو برمااست۔اصل میں یہ قصور خود مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اپنی سادہ لوح اولاد کو بغیر اس کے کہ ان کو قرآن اور اسلام کے ضروری علوم سے آگاہ کریں ان مدرسوں اور کالجوں میں بھیج دیا۔ مانا کہ طلب علم ہر مرد وعورت پر فرض ہے جیسا کہ حدیث طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ سے ظاہر ہے مگر اول علوم دینیہ کا حصول فرض ہے ۔جب بچے علو م دینی سے پورے واقف ہوجاویں اور ان کو اسلام کی حقیقت اورنور سے پوری اطلاع ہوجاوے تب ان مروجہ علوم کے پڑھانے کا کوئی حرج نہیں ۔ اصل میں ان مسلمانوں کی موجودہ روش بہت ہی خطرناک ہے ۔ دیکھو پہلے ایک عورت کو بازاری کنجری بنا کر پھر توبہ کرائی جائے تو وہ کیسی توبہ کرے گی ؟شراب ‘بدکاری اور بے قید زندگی اس کی عادت ثانی ہوجاوے گی۔ اول تواسے توبہ کرنا ہی مشکل اور اگر کرے بھی تو وہ کیسی توبہ ہوگی ؟