ہے کہ اس کی دنیا ٹھیک ہوجاوے خود پاک دل ہوجاوے ۔ نیک بن جاوے اور اس کی تمام مشکلات حل اوردکھ دورہوجاویں اور اس کو ہر طرح کی کامیابی اورفتح ونصرت عطا ہو تو اس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بتایا ہے اوروہ یہ ہے کہ قدافلح من زکھا (الشمس :۱۰)کامیاب ہوگیا ‘بامراد ہوگیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا ۔ تزکیہ نفس میں ہی تمام برکات اورفیوض اورکامیابیوں کا راز پنہاں ہے۔ فلاح صرف اموردینی ہی میں نہیں ۔ بلکہ دنیا ودین میں کامیابی ہوگی ۔ نفس کی ناپاکی سے بچنے والا انسان کبھی نہیں ہوسکتا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو۔ میں یہ قبول نہیں کرسکتا کہ فلسفہ ‘ہیئت اورسائنس کا ماہر ہونے سے تزکیہ نفس بھی ہوجاتا ہے ۔ ہر گز نہیں ۔ البتہ یہ مان سکتا ہوں کہ ایسے شخص کے دماغی قویٰ تیز اور اچھے ہوجاتے ہیں ۔ ورنہ ان علوم کو روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ۔ بلکہ بعض اوقات یہ امور روحانی ترقی کی راہ میں ایک روک ہوجاتے ہیں اورآخری نتیجہ اس کا بجز اس خوش قسمت کے کہ وہ فطرت سلیم رکھتا ہے ۔ اکثر کبرونخوت ہی دیکھا ہے ۔کبھی نیکی اورتواضع ان میں نہیں ہوتی ۔ ۱؎ ضرورت انسان کی راہ نما ہے ایک اورامر قابل یادرکھنے کے یہ ہے کہ یہ قاعدہ ہے اورقانون قدرت میں داخل ہے کہ ہر چیز ضرورت سے پیدا ہوتی ہے ۔جس طرح ظاہر ی طورسے ہم دنیوی امور میں ہرروز مشاہدہ کرتے ہیں ۔ یہ لباس ‘خوراک سواریاں اورآلات معیشت جتنے بھی ہیں ۔ یہ تما م ضرورت سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اسی طرح سے روحانی امور میں بھی بہت سے امور ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں اورجب کبھی ضرورت ہوتی ہے وہ خداکی طرف سے پوری کی جاتی ہے ۔ضرورت انسان کی روحانی جسمانی تمام امور میں راہ نما ہے اور اسی سے حق وباطل میں امتیاز حاصل ہوسکتا ہے ۔ جس طرح کوئی چیز بلا ضرورت اوربے فائدہ نہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضرورت حقہ کے وقت یہ خیال کرنا کہ خداتعالیٰ نے اس وقت کوئی سامان پیدا نہیں کیا۔ سخت غلطی ہے ۔ اسلام پر اندرونی اوبیرونی حملے اب ہمارا یہ زمانہ جس میں ہم موجود ہیں کیا اندرونی اورکیا بیرونی طورسے اس میں اس قدر مفاسد بھرے ۱؎ بدر سے :۔ ’’کبر ایسی بری بلا ہے کہ انسان اس کی وجہ سے ہر قسم کی ترقی سے رک جاتا ہے ۔‘‘ بدر جلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۴)