عبدالحمید نے اقرار کیا کہ مجھے اصل میں ان پادریوں نے سکھایا تھا کہ میں ایسا کہوں ۔ اصل میں کوئی بات نہیں ۔ یہ معلوم کرکے وہ ایسا خوش ہوا اور ہمیں اس کے تبسم سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایسا خوش ہے کہ جیسا کہ کسی کو بہت سامال و دولت حاصل ہونے کی بھی اتنی خوشی نہیں ہوتی ۔ اور آکر کار خود مجھے کہا کہ مبارک ہو آپ بری کئے گئے ۔ اب بتائیے کہ اگر کسی مسلمان کی عدالت میں ایسا مقدمہ ہوتا تو وہ ایسا کر سکتا تھا؟اوروہ اس طرح سے صفائی اورانصاف کی جستجوکرسکتا تھا ؟ہر گز نہیں ۔بلکہ ہمیں تو حالات موجودہ کے ماتحت یہی امید پڑتی ہے کہ اگر کسی مسلمان کے پاس ہمارا ایسا مقدمہ ہوتا تو وہ ہمیں ضرورہی خوار کرتا ۔ آٹھ نو گواہ گذرچکے تھے ۔مسل مکمل ہوچکی تھی ۔ اب چھوڑتا توکیونکر ؟مگر یہ قوم ہے کہ اس کو اسی انصاف کی وجہ سے ہر جگہ فتح نصیب ہویء ہے ۔ جب کوئی جس قدر انصاف اختیار کرتا ہے اسی قدر روشن ضمیر ی بھی اسے عطا کی جاتی ہے ۔مخالفت دینی اور مذہبی اور چیز ہے اورحکومت اورچیز ہے ۔ گر عدالت کو مدنظر نہ رکھیں توایک دن میں یہ تختہ الٹ جاوے ۔
مسلمانو ں کا یہ خیال کہ ہمیں اعلیٰ اعلیٰ عہدے کیوں نہیں دیئے جاتے یہ ان کی اپنی غلطی ہے ۔ یادرکھو کہ کوئی کام جب تک پہلے آسمان پر نہیں ہولیتا زمین پر ہرگز نہیں ہوسکتا۔ خودنیک چینی اختیار کرو اوراپنی حالت کو سنوار و۔ اس قابل بنو کہ خداتعالیٰ کی نظر میں آسمان پر تم اس قابل ٹھہر جائو کہ تمہیں عزت مل سکے تو پھر خود خداتعالیٰ تمہیں سب کچھ دے دیگا ۔ اپنی حالتوں کو بدلو کہ تاخداتعالیٰ بھی تمہارے واسطے کوئی اورراہ بناوے ۔ ورنہ یا درکھو کہ خداتعالیٰ نہیں چھوڑے گاجب تک کہ تم اپنی حالت کو نہیں سنواروگے۔
تزکیہ نفس میں ہی کامیابیوں کا راز پنہاں ہے
تیسرامقام خداتعالیٰ کے شکر کا یہ ہے کہ یہ خاص خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے آپ لوگوں کے دلوں میں اس طرف توجہ ڈالی اور آپ لوگ یہاں تکلیف اٹھا کر تشریف لائے ۔ خداکرے کہ جس طرح ہم جسمانی طور سے مل کر بیٹھے ہیں اور جسمانی ملاقات ہوئی ہے اسی طرح ایک دن وہ بھی آوے۔ کہ روحانی ط ورسے بھی ہم مل بیٹھیں ۔ خداتعالیٰ نے انسان کو زبان دی اور ایک دل بخشا ہے ۔صرف زبان سے کوئی فتح نہیں ہوسکتی ۔ دلوں کو فتح کرنے والا دل ہی ہوتا ہے جو قوم صرف زبانی ہی زبانی جمع خرچ کرتی ہے یادرکھو کہ وہ کبھی بھی فتحیاب نہیں ہوسکتی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا نمونہ دیکھوکہ کیا ان کے پاس کوئی ظاہر سامان تھے ؟ہر گز نہیں ۔ مگر پھر بایں ہمہ کہ وہ بے سروسامان تھے اور دشمن کثیر اورہر طرح کے سامان اسے مہیا تھے ان کو خداتعالیٰ نے کیسی کیسی بے نظیر کا میابیاں عطاکیں بھلا کہیں کسی تاریخ میں ایسی کامیابی کی کوئی نظیر ملتی ہے ـ؟تلاش کرکے دیکھ لو مگر لاحاصل ۔ پس جو شخص خداکو خوش کرنا چاہتا ہے اورچاہتا