کی حد سے نکل نہ جاوے ۔ آزادی سے خیالات کا اظہار کر سکتاہے ۔ کتابیں لکھ سکتا ہے ۔ تقریریں کر سکتا ہے اگرکوئی تعصب ہوتا تو عیسائیوں کے رد کرنے والوں پر تو کم ا ز کما سختی ہو جاتی غرض یہ امر اس گورنمنٹ کی انصاف پسندی اوربے تعصبی کا ایک عمدہ نمونہ اور دلیل ہے ۔ مگر انسان کا یہ فرض ہے کہ بات کو اس حد تک نہ پہنچا دے کہ قانونی گرفت کے اندر آجائے اور جرم کی حد تک پہنچا دے ۔ پس یاد رکھو کہ اگر کوئی شخص مسلمان ہ کر اس کی نافرمانی کرتا ہے ۔ تو وہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص بندے کا شکر نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر گذار نہیں بن سکتا۔ یادر کھو کہ گورنمنٹ کی ناراضگی کی وجہ بغاوت ہوتی ہے ورنہ جائز طور سے دینی معاملات کی انجام وہی اور امن کی زندگی گذارنے سے گورنمنٹ ہر گز کسی پر عتاب نہیں کرتی۔ ایسے صلح کاری امن پسندی اور انصاف شعاری کے اصول رکھنے والی گورنمنٹ کا شکریہ نہ کرنا بھی گناہ ہے ۔ پس مسلمانوں پر عموما اور ہماری جماعت پر خصوصاً واجب ہے کہ اپنی مہربان گورنمنٹ کا بھی شکر یہ ادا کریں۔ اگر یہ گورنمنٹ سر پر نہ ہو تو پھر دیکھ لو کہ کیا حال ہوتا ہے ۔ انسان کی طرح سے بے دریغ بھیڑ بکری کی طرح ذبح کئے جاتے ہیں ۔ اس گورنمنت کی حکومت آئی تو ان پر کیا الزام ۔ یہ تو مشیت ایزدی ہی اسی طرح پر واقع ہوئی تھی ۔ مسلمان بادشاہوں نے اپنے فرائض کو چھوڑ دیا۔ عیش و عشرت میں پڑ کر حکومت اور رعایا کے حقوق کی پروانہ کی۔ عورتوں کی طرح زیب و زینت میں مصروف ہو گئے ۔ سیاست مدن کے امور کو ترک کر دیا۔ خدا نے ان کو نااہل اور ان کو اہل پاکر عنان حکومت انہی کے ہاتھ میں دی ۔ یہ اگر کسی پر سختی بھی کرتے ہیں تو کسی وجہ سے البتہ اگر کسی معاملہ میں علم نہ ہو تو مجبوری ہے کیونکہ بے علمی کی وجہ سے تو زاہد اور پارساآدمی بھی غلطی کر بیٹھتے ہیں ۔ دیدہ وانستہ ظلم کو ہر گز پسند نہیں کرتے بلکہ سلیم الطبع حکام بعض اوقات ظاہر امور کر پروانہ کرکے اور ان سے تسلی نہ پانے کی وجہ سے مقدمات کی تہہ نکالنے کے واسطے اور اصلیت دریافت کرنے کی غرض سے اکثر بڑی محنت اور جانفشانی اور سچی انصاف پسندی سے کام کرتے ہیں ۔ ہمارا ہی ایک مقدمہ تھا جو کہ ایک معزز پادری نے ہم پر اقدام قتل کا کیا کہ گویا ہم نے اس کے قتل کرنے کے واسطے آدمی بھیجا ۔ عبدالحمید اس کانام تھا۔ آٹھ نو آدمی گوہ بھی گذر گئے ۔ وہی نہیں بلکہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب جو کہ مسلمانوں کے پیشوا کہلاتے ہیں ۔ انہوں نے بھی ایسی گواہی دی ۔ جس منصف مزاج حاکم کی عدالت میں ہمارا مقدمہ تھا۔ اس کانام ڈگلس تھا اس نے ان سب اامور کے ہوتے ہوئے کہا کہ مجھ سے ایسی بد ذاتی نہیں ہو سکتی کہ اس طرھ سے ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کر دوں اور حالانکہ مقدمہ سیشن سپرد کرنے کے لائق ہو گیا تھا۔ مگر اس نے پھر کپتان صاحب پولیس کو حکم دیا کہ اس کی اچھی طرح سے تحقیقات کی جاوے ۔ چنانچہ آخر کار اسی