پروانہ کریں گے اور ہنسی ٹھٹھے میں ٹال دیں گے۔ اکثر انسان بہت ہی غلطی پر ہیں ۔ توجہ الیٰ اللہ دیکھو یہ نہ سمجھنا کہ ان باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ تم تجارت نہ کرو یا کاوربار دنیا کو ترک کرکے بیٹھ جائو ۔ عیال و اطفال جو تمہارے گلے میں پڑے ہوے ہیں ۔ ان کی خبر گیری نہ کرو یا بیوی بچوں یا بنی نو ع انسان کے بعض حقوق جو تمہاری ذمہ داری میں داخل ہیں انکی پروانہ کرو۔ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی بجا لائو اور خدا تعالیٰ سے بھی غافل نہ ہو۔ جب تم اپنی دنیو ی آنی اور فانی ضروریات میں ا س طرح طرح کا انہماک اور استغراق پیدا کرتے ہو تو خدا تعالیٰ سے منہ پھیر لینا اور اس کی رضاجوئی اور خوشنودی کے حصول کے واسطے کوشش نہ کرنا اور خدا تعالیٰ سے منہ پھیر لینا بھلا کس عقلمندی کاکام ہے ۔ وہ خدا جس نے ابتداء میں پیدا کیا اور درمیانی حالا ت بھی اس کے قبضہ اور تصرف میں ہیں اور انجام کار بی اسی کی حکومت اور اسی سے واسطہ پڑے گا۔ اس خداسے فارغ محض اور غافل ہو جانا۔ اس کا نتیجہ ہر گز خیر نہیں ہو سکے گا۔ وہ خدا جس کے انعامات انسان کے ساتھ ہر حال میں شامل رہتے ہیں ۔ اور وہ بے شمار اور بے اندازہ احسانات ہیں اسی کا شکر کرتے رہنا بہت ضروری ہے ۔ شکر اسی کو کہتے ہیں کہ سچے دل سے اقرار کرے کہ واقعی اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ایسی ہیں کہ بیشمار اور بے اندازہ ہیں ۔ انصاف پسند گورنمنٹ کا شکریہ دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اور کہوں گا گو بعض لوگ اسے ظاہر خیال یا بناوٹ یا کچھ سمجھیں وہ یہ ہے کہ گورنمنٹ انگریزی کا احسان ہم مسلمانوں پر بہت بڑا احسان ہے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا شکریہ اد ا کیا جاوے۔ سوچ کر دیکھ لو۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس عہد حکومت سے پہلے سکھوں کے زمانہ میں ہی ہم لوگں پر کیسے کیسے مشکلات تھے ۔ ہمارے باپ دادا کی حالت کیسی خطروں میں گھری ہوئی تھی اور احکام شرعیہ کا رواج تو بجائے خود اذان تک تو اونچی آواز سے کوئی کہہ نہ سکتا تھا۔ بلند آواز سے اذان کہنا ایک ایسا جرم تھا جس کی سز اموت ہوتی تھی۔ کسی قسم کے حلال شرعیہ بھی استعمال نہ کئے جاسکتے تھے ۔ بات بات پر انسان کیڑوں مکوڑون کی طرح ذلت سے ہلاک کر دیا جاتا تھا۔ مگر آج اس عہد حکومت میں کیسا امن کیسی آزادی ہے کہ ہر ایک مسلمان بشرطیکہ اپنی نیت میں خرابی نہ رکھتا ہو۔ تکمیل دین کے واسطے ہر کام کو آزادی سے ادا کر سکتاہے ۔ چاہے جس زور سے اذانیں کہو۔ نمازیں پڑھو۔ اعمال بجالائو۔ علوم کی تحصیل کرو یا کسی کا رد لکھو ۔ خواہ خود عیسائیوں کا رد لکھو کوئی ناراضگی نہیں ۔ ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ جناب فنانشل کمشنر صاحب بہادر دورہ کرتے ہوئے قادیان میں تشریف لائے ۔ ملاقات کے وقت انہوں نے بیان کیا کہ کیسی آزادی ہے ۔ کہ ہر ایک شخص ایک خاص حد تک جو قانون