ہیں ۔اور پھر بڑی حسرت اور مایوسی سے ان کو زندگی کے دن پورے کرنے پڑتے ہیں ۔ سل ‘دق‘ سکتہ اور رعشہ اور اور خطرناک امراض ان کے شامل حال ہو کر مرنے سے پہلے ہی مر رہتے اور آخر کار بے وقت اور قبل از وقت موت کا لقمہ بن جاتے ہیں ۔
پس انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کا جو اس نے انسانی تربیت اور تکمیل کے واسطے مہیا کئے ہیں ۔ ان کا خیال کرکے اس کا شکریہ کرے اور غور کرے کہ اتنے قویٰ اس کو کس نے عطا کئے ہیں ۔ انسان شکر کرے یا نہ کرے ۔ یہ اس کی اپنی مرضی ہے ۔ لیکن اگر فطرت سلیم رکھتا ہے اور سوچ کر دیکھے گا تو اس کو معلوم ہو گا کہ کیا ظاہر ی او ر کیا باطنی ہر قسم کے قویٰ اللہ تعالیٰ ہی کے دئیے ہوئے ہیں ۔ اور اسی کے تصرف میں ہیں ۔ چاہے تو ان کی شکر کی وجہ سے ترقی دے اور چاہے تو ناشکری کی وجہ سے ایک دم ضائع کر دے ۔ غور کا مقام ہے کہ اگر یہ تمام قویٰ خود انسان کے اپنے اختیار اور تصرف میں ہوں تو کون ہے کہ اس کا مرنے کو جی چاہے ۔ انسان کا دل دینا کی محبت کی گرمی کی وجہ سے آخر سے بے فکر ی و سر د مہری اختیا کر لیتا ہے ۔ غافل اسنان ایسا نادان ہے کہ اگر اس کو خدا سے پر وانہ بھی آجاوے کہ تمہیں بہشت ملے گا۔ آرام ہوگا۔ اور طرح طرھ کے باغ اور نہریں عطا کی جاویں گی ۔ تمہیں اجازت ہے اور تمہاری اپنی خواہش اور خوشی پر منحصر ہے ۔ کہ چاہو تو تمہارے پاس آجائو اور چاہو تو دنیا میں ہی رہو۔ تو یاد رکھو کہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے ۔ کہ وہ اسی دنیا کے گذارہ کو ہی پسند کریں گے ۔ اور باوجود طرح طرح کی تلخیوں اور مشکلات کے اسی دنیا سے محبت کریں گے ۔
دنیا حد اعتدال سے باہر ہو چکی ہے ۔
دیکھو عمر کا بھروسہ نہیں ۔ زمانہ بڑا ہی نازک آگیاہے ۔ آپ لو گ دیکھتے ہوں گے کہ ہر سال کئی دوست اور کئی دشمن کئی عزیز اور کئی پیارے بھائی اور بہن اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں ۔ اور ان مین سے کوئی بھی عزیز سے عزیز اور قریبی سے قریبی رشتہ دار انسان کی مشکلات میں سہارا دینے والانہیں ہو سکتا۔ مگر بایں ہمہ انسان جس قدر محنت اور کوشش اور مجاہدہ ان کے واسطے اور اپنے دنیوی امور کے واسطے کرتا ہے ۔ وہ بمقابلہ خدا کے بہت ہی بڑھا ہواہے ۔ خدا تعالیٰ کی عبادت اور فرماں برداری اور اس کی راہ میں کوشش اور سوز و گذار بہت کچھ نابو د ہے ۔ اعتدال نہیں کیا گیا ۔ دنیا حد اعتدال سے باہر ہو چکی ہے ۔ دنیوی کاروبار میں ترقی کنرے کی کوشش کرتے ہیں اور ترقی ہو رہی ہے ۔ مگر بھلا کسی نے ایسی کوشش بھی کی ہے کہ ایک دن اس کی موت کا مقرر ہے ۔ اس سے بھی یہ خود اپنے آپ کو یا کوئی دوسر اشخص اس کو باز رکھ سکے یا بچا سکے ۔ ہر گز نہیں ۔ اگر کوئی موت کا یاد دلانے والا ہو گا تو اس کی بھی