نتیجہ خیال کرتے ہیں وہ محض کو تاہ اندیشی اور جہالت کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں ۔ خد ا تعالیٰ کا فضل اور رحمانیت ہماری روحانی جسمانی تکمیل کی غرض سے ہے اور کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ یہ میرے اعمال کا نتیجہ ہیں ۔ الرحیم انسان کی سچی محنت اور کوشش کا بدلہ دیتا ہے ۔ ایک کسان سچی محنت اور کوشش کرتا ہے ۔ اس کے مقابل میں یہ عادت اللہ ہے کہ وہ اس کی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اور بابر گ و بار کرتا ہے ۔ شازوناد ر حکم عدم کا رکھتا ہے ۔۱؎ صفت ربوبیت اللہ کی ایک صفت رب ہے یعنی پرورش کرنے اور تربیت کرنے والا۔ کیا روحانی اور کیا جسمانی دنو قسم کے قویٰ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان میں رکھے ہیں ۔ اگر قویٰ ہی نہ رکھے ہوتے تو انسان ترقی ہی کیسے کر سکتا۔ جسمانی ترقیات کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اورانعام کے گیت گانے چاہیں ۔ کہ اس نے قویٰ رکھے اور پھر ان میں ترقی کرنے کی طاقت بھی فطرتاً رکھ دی۔ صفت مالکیت مالک یوم الدین ( الفاتحۃ : ۴) خدا مالک ہے جزا سزا کے دن کا ایک رنگ میں اسی دنیا میں بھی جزا سزا ملتی ہے ۔ ہم روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ چور چوری کرتا ہے ۔ ایک روز پکڑا جاوے گا دو روز نہ پکڑا جاوے گا آخر ایک روز پکڑا جاوے گا۔ اور زندان میں جائے گا اور اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ یہی حال زانی ۔ شراب خور اور طرح طرح کے فسق وفجور میں بے قید زندگی بسر کرنے والوں کا ہے کہ ایک خاص وقت تک خدا کی شان ستاری ان کی پردہ پوشی کرتی ہے ۔ اور یہ اس اخروی دوزخ کی سزا کا نمونہ ہے ۔ اسی طرح سے جو لوگ سرگرمی سے نیکی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اور فرماں برداری ان کی زندگی کا اعلیٰ فرض ہوتا ہے ۔ تو خدا تعالیٰ ان کی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا اور مقررہ وقت پر ان کی نیکی بھی پھل لاتی اور بار آور ہو کر دنیا میں ہی ان کے واسطے ایک نمونہ کے طو ر پر مثالی جنت حاصل کر دیتی ہے ۔ غرض جتنے بھی بدیوں کے ارتکاب کرنے والے فاسق فاجر شراب خور اور زانی ہیں ۔ ان کو خدا کا اور روز جزا کاخیال آنا تو درکنار ۔ اسی دنیا میں ہی اپنی صحت تندرستی عافیت اور اعلیٰ قویٰ کھو بیٹھتے ۱؎ بدر سے ۔’’کسی پوشید حکمت یا کاشتکار کی بد عملی کی وجہ سے فصل برباد ہو جا ئے تو یہ علیحدہ بات ہے ۔ یہ شاذو نادر کا لمعدوم کا حکم رکھتی ہے ۔‘‘ ( بدر جلد ۷ نمبر ۲۵ صفحہ ۳ مورخہ ۲۵ جون ۱۹۰۸ئ؁ )