اس کے انعامات ہر دوروحانی اورجسمانی رنگ میں محیط ہیں اورجیسا کہ سورہ فاتحہ میں جو کہ سب سے پہلی سورۃ ہے اورتمام قرآن شریف اسی کی شرح اورتفسیر ہے اوروہ پنجوقت نمازورں میں باربار پڑھی جاتی ہے اس کا نام ہے رب العالمین یعنی ہر حالت میں اورہر جگہ پر اسی کی ربوبیت سے انسان زندگی اورترقی پاتا ہے اوراگر عمیق نظر سے دیکھا جاوے تو حقیقت میں انسانی زندگی کی بقاء اورآسودگی اورآرام ‘راحت و چین اسی صفت الہٰی سے وابستہ ہے ۔اگراللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کا استعمال نہ کرے اوردنیا سے اپنی رحمانیت کا سایہ اٹھالے تودنیا تباہ ہوجاوے ۔ پھر اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام رحمن اوررحیم رکھا ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن اوررحیم میں فرق بیان کردوں۔ رحمٰن اور رحیم میں فرق الرحمن: سویاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کانام جو بغیر کسی عوض یا انسانی عمل محنت اور کوشش کے انسان کے شامل حال ہوتی ہے ۔ رحمانیت ہے ۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے نظام دنیا بنا دیا۔ سورج پیدا کیا۔ چاند بنایا ستارے پیدا کئے ۔ ہوا پانی ۔ اناج بنائے ہماری طرح طرح کی امراض کے واسطے شفا بخش دوائیں پیدا کیں ۔ غرض اسی طرح کے ہزاروں ہزار انعامات ایسے ہیں کہ بغیر ہمارے کسی عمل یا محنت و کو شش کے اس نے محض اپنے فضل سے پیدا کر دئیے ہیں۔ اگر اانسان ایک عمیق نظر سے دیکھے تو لاکھوں انعامات ایسے پائے گا اور اس کو کوئی وجہ انکار کی نہ ملے گی اور ماننا ہی پڑے گا۔ کہ وہ انعامات اور سامان راحت جو ہمارے وجود سے بھی پہلے کے ہیں بھلا وہ ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں ۔ دیکھو یہ زمین اور آسمان اور ان میں کی تمام چیزیں اور خود ہماری بناوٹ اور وہ ھالت کہ جب ہم مائوں کے پیٹ میں تھے ۔ اور اس وقت کے قویٰ یہ سب ہمارے کس عمل کا نتیجہ ہیں ۔ میں ان لوگں کا یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا جو تناسخ کے قائل ہیں مگر ہاں اتنا بیان کئے بغیر ہر بھی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے لا تعداد انعام اور فضل ہیں کہ ان کو کسی ترازو میں وزن نہیں کر سکتے ۔ بھلا کوئی بتا تو دے کہ یہ انعامات کہ چاند بنا یا سور ج بنایا زمین بنائی اور ہماری تمام ضروریات ہماری پیدائش سے بھی پہلے مہیا کر دیں ۔ یہ گل انعامات کس عمل کے ساتھ وزن کریں گے۔ پس ضروری طور سے یہ بنانا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ رحمن ہے اور اس کے لاکھوں فضل ایسے بھی ہیں کہ جو محض اس کی رحمانیت کی وجہ سے ہمارے شامل حال ہیں ۔ اور اس کے وہ عطا یا ہمارے کس گذشتہ عمل کا نتیجہ نہیں ہیں ۔ اور کہ جو لوگ ان امور کو اپنے کسی گذشتہ عمل کا