۱۷مئی ۱۹۰۸ئ؁ تقریر حضرت اقدس علیہ السلام ۱۱بجے صبح تاایک بجے دوپہر بمقام لاہور تکمیل التبلیغ واتمام الحجۃ ۱؎ شکریہ مجھے اس وقت اس بات کا اظہار ضروری اورمناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہمیں تین قسم کا شکر کرنا چاہئیے ۔ سب سے مقدم اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی دی ‘صحت دی ‘تندرستی بخشی ‘امن دیا اور اشاعت دین کے لئے سامان مہیا کردیئے اورحقیقتاً سچی بات یہی ہے کہ اگرخداتعالیٰ کی ان نعمتوں کا شمار کرنا چاہیں توہرگز ممکن نہیں کہ اس خداکی مہربانیوں اوراحسانوں کا شمار کرسکیں ۔ ۲؎ ۱؎ بدر نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ تقریر ’’البلاغ المبین ‘‘کے زیر عنوان ۲۵ جون ۱۹۰۸ئ؁ کے پرچہ میں درج کی ہے جس کے شروع میں یہ نوٹ لکھا ہے :۔ ۱۷مئی ۱۹۰۸ئ؁ کا وجد انگیز نظارہ آخر دم تک مجھے یادرہے گا۔ جب خداتعالیٰ کے ہاتھوں سے معطر کیاہوا مسیح گیارہ بجے معزز رئوساء وامراء لاہور کے سامنے ایک تقریر فرمارہا تھا ۔ تقریر کیا تھی ۔ معرفت کا ایک سمندر تھا جو اپنے پورے جوش میں تھا ۔عرفان کا ایک بادل تھا جو ابر رحمت بن کر ان پر برسا ۔ وہ ایک آخری پیغام تھا جو دارالخلافہ میں عرخلافت نے اپنے قادروتوانا مالک الملکوت سلطان الجبروت کی طرف سے پہنچایا ۔ بارہ بج گئے اورآپ نے فرمایا ۔کھانے کا وقت گذراجاتا ہے چاہو تو میں اپنی تقریر بند کردوں مگر سب نے یہی کہا کہ یہ کھانا تو ہم روز کھاتے ہیں ۔ ہمیں روحانی غذا کی ضرور ت ہے ۔ چنانچہ تقریرایک بجے ختم ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر چیف کورٹ کی مساعی جمیلہ کو مشکور کریں جنہوں نے اپنے دوستوں کیلئے حضور سے نیا حاصل کرنے اوران کے کلمات طیبات سننے کا یہ موقعہ دعوت کے رنگ میں نکال دیا ۔‘‘ بدر جلد ۷نمبر ۲۵صفحہ ۳مورخہ ۲۵جون ۱۹۰۸ئ؁ ۲؎ بدر سے :۔وان تعدوانعمت اللہ لاتحصوھا(ابراھیم :۳۵) (حوالہ مذکور)