۱۵اکتوبر ۱۹۰۶ئ؁ پیشگوئی بڑا معجزہ ہوتی ہے:۔ پیشگوئیوں اور معجزات کا ذکر تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ :ـ۔ پہلے انبیاء کی کتابوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بڑا معجزہ پیشگوئی ہی ہے۔ پیشگوئی کے سوائے دوسرے معجزات میں کئی قسم کے شبہات ہوتے ہیں اور وہ صرف ایک عارضی بات ہوتی ہے۔ بہت سے تماشہ کرنے والے بھی ایسے کام کرتے ہیں کہ لوگ حیرت میں رہ جاتے ہیں۔ مگر کوئی تماشہ کرنے والا پیشگوئی کے کام میں پیش دستی نہیں کرسکتا۔ خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا کہ اس زمانہ میں یا تو بالخصوص پیشگوئی ایک نمایاں معجزہ ہے کیوں کہ فلسفی اور سائنسدانوں لوگوں نے دوسرے معجزات کے متعلق کچھ نہ کچھ راز بیان کئے ہیں‘ لیکن پیشگوئی کے متعلق چوں کہ کچھ سمجھ نہیں سکے کہ اس میں کیا راز ہوسکتا ہے یاکس ظاہری سائنس کے مطابق پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ اس واسطے پیشگوئی کا انہوں نے صاف انکار کردیا ہے کہ پیشگوئی کوئی ہوتی ہی نہیں۔ لہٰذا اس زمانہ میں پیشگوئی کرنا اور اس کا ثابت کردینا معجزہ دکھانے کا یہی سب سے بڑا ذریعہ ہے جس میں دنیا دار عاجز ہیں۔ حضرت نے فرمایا :۔ پیشگوئیوں پر ہی پہلے انبیاء بھی زور دیتے تھے اور آنحضرت ﷺنے بھی بہت سی پیشگوئیاں کیں جن میں سے بہت پوری ہوچکی ہیں کیوں کہ ان کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ چنانچہ آپ نے ایک بڑی آگ کے نمودار ہونے کی پیشگوئی کی تھی اور اس کے متعلق تمام نشانات اورعلامات کا ذکر کیا تھا۔ وہ پیشگوئی جب صحیح بخاری وغیرہ کتب میں درج ہوگئی اور وہ کتابیں عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاتھ میں پہنچ چکیں تو اس وقت نمودار ہوئی اس پر مخالف عیسائی بھی آج تک حیران ہیں کہ یہ کیا بات تھی کہ اتنی صدیوں کے بعد آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی ایسی صراحت کے ساتھ پوری ہوئی۔ مولوی عبداللہ غزنوی :۔ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کا ذکر تھا ۔ فرمایا کہ:۔ وہ اچھے آدمی تھے۔ مرد صالح تھے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو ہمارے دعویٰ کے زمانہ سے پہلے ہی اٹھالیا تاکہ وہ کسی ابتلا میں نہ پڑیں۔ میں نے ان کو خواب میں بھی دیکھا تھا۔ انہوں نے میری تصدیق کی اور کہا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں ایسے آدمی کے پیدا ہونے کا منتظر تھا۔ گذشتہ اکابر قابل مواخذہ نہیں ہوں گے:۔ فرمایا:۔