وہ شخص اس سے احسان ومدارات سے پیش آتا ہے تووہ چور خواہ کس قدر برا ہے مگر اس شخص کی کبھی چوری نہ کریگا اورکبھی اس کے گھر میں نقب نہیں لگائے گا تو کیا خداچور جیسا بھی نہیں ؟کیا خداسے وفاداری کا تعلق بے فائدہ جاسکتا ہے ؟ہر گز نہیں۔
تمام اخلا ق حمیدہ اسی کے صفات کا پر تو ہیں۔ جو سچے دل سے اس کے پاس آتے ہیں وہ ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرقا ن رکھ دیتا ہے ۔
سچے دل سے تضرع ایک حصار ہے
صوفی کہتے ہیں جس شخص پر چالیس دن گذر جائیں اورخداکے خوف سے ایک دفعہ بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہوں توان کی نسبت اندیشہ ہے کہ وہ بے ایمان ہوکر مرے ۔ اب ایسے بھی بندگان خداہیں کہ چالیس دن کی بجائے چالیس سال گذرجاتے ہیں اور ان کی اس طرف توجہ ہی نہیں ہوتی ۔ دانشمند انسان وہ ہے جوبلا آنے سے پہلے بلا سے بچنے کا سامان کرے ۔جب بلانازل ہوجاتی ہے تو اس وقت نہ سائنس کام دیتی ہے اورنہ دولت ۔دوست بھی اس وقت تک ہیںجب تک صحت ہے پھر تو پانی دینے کے لئے بھی کوئی نہیں ملتا ۔ آفات بہت ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جلدی توبہ کرو۔ کہ انسان کے گردچیونٹیوں سے بڑھ کر بلائیں ہیں۔ جن لوگوں کا تعلق خداتعالیٰ سے ہے جس طرح وہ بلائوں سے بچائے جاتے ہیں دوسرے ہرگز نہیں بچائے جاتے ۔ تعلق بڑی چیز ہے کہ ؎
بہ زیر سلسلہ رفتن طریق عیاری است
کوئی انسان نہیں جس کے لئے آفات کا حصہ موجود نہیں ۔ ان مع العسر لیسر ا (الم نشرح :۷)انشان کو مایوس بھی نہیں ہونا چاہئیے ؎
برکریماں کارہا دشوار نیست
ایک منٹ میں کچھ کا کچھ کردیتا ہے ؎
نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش ناگاہ بیک خروش بمنزل رسیدہ اند
امن اورصحت کے زمانہ کی قدر کرو۔ جو امن وصحت کے زمانے میں خداتعالیٰ کی طرف رجو ع کرتا ہے خداتعالیٰ اس کی تکلیف وبیماری کے زمانہ میں مدد کرتا ہے ۔سچے دل سے تضرع ایک حصار ہے جس پر کوئی بیرونی حملہ آوری نہیں ہوسکتی ۔۱؎
۱؎ بدر جلد ۷نمبر ۱۹۔۲۰صفحہ ۴تا ۷مورخہ ۲۴مئی۱۹۰۸ئ