کہ یہود ونصاریٰ سے بھی اس کا کفر بڑ ھ کر ہے ۔ پس جیسا کہ یوسف علیہ السلام کو جب مخلصی کا پیغام پہنچا تو آ پ نے فرمایا ۔پہلے ان سے یہ تو پوچھو کہ میرا قصور کیا ہے ؟سوآپ صلح سے پہلے یہ تو پوچھئے کہ ہم میں کفر کی کونسی بات ہے ہم تو جو کچھ کرتے ہیں جو کہتے ہیں سب میں آنحضرت ﷺ کی عظمت ‘جلا ل وعزت کا اظہارموجود ہے ۔
قرآن مجید میں ہے فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرات (فاطر:۳۳)
ہم تو تینوں طبقوں کے لوگوں کو مسلمان کہتے ہیں مگر ان کوکیا کہیں کہ مومن کو کافر کہیں ۔ جو ہمیں کافر نہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے اپنے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہار نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفرین کو بموجب حدیث صحیح کافر سمجھتے ہیں۔
تعلیم نسواں
پھر دوسرے صاحب نے پوچھا کہ تعلیم نسواں کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں ؟
فرمایا :۔
حدیث ہے ۔طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ میں پہلے مردوں کا ذکر کرتا ہوں ۔ کہ قبل اس کے جو اسلام کی حقیقت معلوم ہو اوراس کی خوبیاں معلوم ہوں پہلے ان علوم کی طرف مشغول ہو جانا سخت خطرناک ہے ۔چھوٹے بچوں کو جب دین سے بالکل آگاہ نہ کیا جائے اور صرف مدرسہ کی تعلیم دی جائے تووہی باتیں ان کے بدن میں شیر مادر کی طرح رچ جائیں گی۔ پھر سوااس کے اورکیا ہے کہ وہ اسلام سے پھر جائیں ۔ عیسائی تو بہت کم ہو ں کیونکہ تثلیت وکفارہ اورایک انسان کو خداماننے کا عقیدہ ہی کچھ ایسالغو ہے کہ اسے کوئی عقیل وفہیم قبول نہیں کرسکتا ۔ البتہ دہریہ ہوجانے کا بہت خطرہ ہے ۔پس ضرور ہے کہ پہلے روز ساتھ ساتھ روحانی فلسفہ پڑھایا جاوے۔ جب آجکل کی تعلیم نے مردوں پرمذہب کے لحاظ سے اچھا اثر نہیں کیا تو پھر عورتوں پر کیا توقع ہے۔ہم تعلیم نسواں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ہم نے تو ایک سکو ل بھی کھول رکھا ہے ۔ مگر یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ پہلے دین کا قطعہ محفوظ کیا جائے تابیرونی باطل تاثرات سے محفوظ رہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سواء السبیل ‘توبہ ‘تقویٰ وطہارت کی توفیق دے۔
ملازمت کیسی ہو
فرمایا :۔ملازمت اگر منہیات سے روکے توایک نعمت ہے جو ہر طرح سے قابل شکریہ ہے اوراگر بر خلاف اس کے بدافعال کا مرتکب کرے تو پھر ایک لعنت ہے جس سے بچنا لازم ہے
تعلق پیداکرنا بڑے کام کی چیز ہے
تعلق پیدا کرنا بڑے کام کی چیز ہے ۔ دیکھو کوئی چور ہے اور ایک شخص کا بڑا دوست ہے