پڑھا جائے جو ان سے السلام علیکم کرے یا مصافحہ کرے یا انہیں مسلمان کہے وہ بھی کا فر ۔ اب سنو یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جومن کو کافر کہے وہ کافر ہوتا ہے ۔پس اس مسئلہ سے ہم کسی طرح انکار کرسکتے ہیں۔ آپ لوگ خود ہی کہدیں کہ ان حالات کے ماتحت ہمار ے لئے کیا راہ ہے ؟ہم نے ان پر پہلے کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ اب جو انہیں کافر کہا جاتاہے تویہ انہیں کے کافر بنانے کا نتیجہ ہے ایک شخص نے ہم سے مباہلہ کی درخواست کی ۔ ہم نے کہا کہ دومسلمانوں میں مباہلہ جائز نہیں ۔ اس نے جواب لکھا کہ ہم توتجھے پکا کافر سمجھتے ہیں۔ اس شخص نے عرض کیا کہ وہ آپ کو کافر کہتے ہیں توکہیں لیکن اگر آپ نہ کہیں تو اس میں کیا حرج ہے ؟ فرمایا کہ :۔ جو ہمیں کا فر نہیں کہتا ہم اسے ہر گز کا فر نہیں کہتے لیکن جو ہمیں کافر کہتا ہے اسے کافر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اوریہ ہم سے نہیں ہوسکتا ۔ اس شخص نے کہاکہ جو کافر نہیں کہتے ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں کیا حرج ہے ؟ فرمایا :۔ لایلد غ المومن من جحرواحد مرتین ۔ہم خوب آزما چکے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل منافق ہوتے ہیں ان کا حال ہے واذالقواالذین امنو اقالو آامنا واذاخلو االی شیاطینھم قالو ٓاانا معکم انمانحن مستھزء ون (البقرۃ :۱۵)یعنی سامنے تو کہتے ہیں کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی مخالفت نہیں مگر جب اپنے لوگو سے مخلّٰی بالطبع ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ان سے استہزاء کررہے تھے پس جب تک یہ لوگ ایک اشتہار نہ دیں کہ ہم سلسلہ احمدیہ کے لوگوں کو مومن سمجھتے ہیں بلکہ ا ن کو کافر کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ تومیں آج ہی اپنی تمام جماعت کو حکم دے دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیں۔ ہم سچائی کے پابندہیں ۔ آپ ہمیں شریعت اسلام سے باہر مجبور نہیں کرسکتے ۔جب اس میں یہ بالاتفاق مسلمہ مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا خود کافر ہے تو ہم انہیں کس طرح مسلمان کہیں ؟اوران مکفرین اہل حق کو کافر نہ جانیں ؟ہم کس طرح سمجھیں کہ وہ سچے مسلمان ہیں ۔ جب ان کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کے قول کی عظمت نہیں ہے حالانکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے سید ومولیٰ نبی ﷺ کے قول کا پاس کرے اور جو کچھ انہوںنے فرمایا سی کے مطابق عقیدہ رکھے ۔ اس پر اس شخص نے پھر مکرروہی کہا ۔ آپ نے پھر بالتفصیل سمجھا یا کہ دیکھو ۔ پہلے اپنے ملاں لوگو ں سے پوچھ تو دیکھیں کہ وہ ہمیں کیا سمجھتے ہیں ۔ وہ تو کہتے ہیں یہ ایسا کافر ہے