ہمارے نزدیک تو یہ سب فرقے موجودہ صورت حالات میں اس تعلیم سے دور ہیں جو نبی کریم ﷺ نے اسلام کے متعلق فرمائی ۔ یہ طرح طرح کی بدعات میں گرفتار ہیں ۔ ایسے درودووظائف اورذکر کرکے طریقے نکال رکھے ہیں جو آنحضرت ﷺ سے ثابت نہیں ۔ ان میں ایک ذکر ارہ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کوسل ہوجاتی ہے ۔ بعض مجنون ہوجاتے ہیں جنہیں پیرولی اللہ کہتے ہیں ۔ اسلام میں ایسی پاگل کردینے والی تعلیمات نہیں اورنہ یہ وصولی الی اللہ کا طریقہ ہے ۔قرآن مجید میں تویہ فرمایا قدافلح من رکھاوقد خاب من دسھا (الشمس ۱۰‘۱۱)جب انسان مخلص اللہ تعالیٰ کیلئے اپنے جذبا ت کو رو ک لیتا ہے تواس کا نتیجہ دین ودنیا میں کامیابی اورعزت ہے ۔فلاح دوقسم کی ہے ۔ تزکیہ نفس حسب ہدایت نبی کریم ﷺ کرنے سے آخرت میں بھی نجات ملتی ہے اوردنیا میں بھی آرام ہوتا ہے ۔ گناہ خود ایک دکھ ہے ۔ وہ بیمار ہیں جو گناہ میں لذت پاتے ہیں ۔ بدی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا ۔بعض شرابیوں کو میں نے دیکھا ہے کہ انہیں نزول الماء ہوگیا ۔ مفلوج ہوگئے ۔ رعشہ ہوگیا ۔ سکتہ سے مرگئے ۔ خداتعالیٰ جو ایسی بدیوں سے روکتا ہے تو لوگوں کے بھلے کے لئے جیسے ڈاکٹر اگر کسی بیمار کو پرہیز بتاتا ہے تواس میں بیمار کا فائدہ ہے نہ کر ڈاکٹر کا ۔
پس فلاح جسمانی وروحانی پانی ہے تو تم ان تمام آفات ومنہیات سے پرہیز کرو۔ نفس کو بے قید نہ کرو کہ تم پر عذاب نہ آجائے ۔ اللہ تعالیٰ نے کمال رحمت سے سب دکھوں سے بچنے کی راہ بتادی ۔ اب کوئی اگر ان دکھوں سے ان گناہوں سے نہ بچے تواسلام پر اعتراض نہیں ہوسکتا ۔
حاصل کلام دوقسم کے لوگ ہیں ۔ ایک وہ جو نیچرت میں حدسے بڑ ھ گئے ہیں قریب ہے کہ وہ دہریہ ہوجائیں ۔ ان کے نزدیک ارکان صلوٰۃ ایک لغوحرکت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں نبی بھی امی ۔ صحابہ ؓ بھی امی ۔ پس انہی کے لائق یہ حکم تھا۔ یہ افراط کا طریق ہے ۔ دوسرے وہ لوگ جو تفریط میں پڑے ہیں حقوق اسلام کو کھا گئے ۔فقیر ذکر اللہ کے طرح طرح کے طریقے نکال بیٹھے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم امۃ وسطاہو ۔پس اعتدال چاہیے اوردرمیانی راہ اختیار کرنی لازم ہے ۔
ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے
پھر اس معزز ملاقات کرنیوالے (مسٹر فضل حسین صاحب بیر سٹر ایٹ لاء )نے عرض کیاکہ اگر تمام غیر احمدیوں کو کافر کہا جائے توپھر اسلام میں توکچھ بھی نہیں رہتا ۔فرمایا :۔
ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے آپ کو شاید معلوم نہ ہو جب میں نے مامور ہونے کا دعویٰ کیا۔ تو اس کے بعد بٹالہ کے محمد حسین مولوی ابوسعید صاحب نے بڑی محنت سے ایک فتویٰ تیار کیا جس میں لکھا تھا کہ یہ شخص کافر ہے دجال ہے ۔ ضال ہے ‘اس کا جنازہ نہ