توحید ہی لے کر آیا تھا جیسے کہ یہودی رکھتے ہیں اور برہمو سماج کے لوگ اس کے قائل ہیں ۔ تواتنا بڑا شریعت کا بوجھ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی ؟ایک طرف تومانتے ہیں کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اوردوسری طرف اس میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں بتاتے اوراس کے جو کمالا ت اورخوبیاں ہیں وہ بھی مردوں میں بتاتے ہیں ۔ گویا زندوں کے لئے کچھ نہیں۔
مصنوع سے صانع کی طرف جانا خداتعالیٰ کی ہستی کا علیٰ ثبوت نہیں ہوسکتا ۔ بلکہ خدا شناسی کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ وہ خود آنا الموجود کہے۔ پچھلے قصے تودوسرے مذاہب بھی سناتے ہیں ۔ پس اس کے مقابل میں اگر تم بھی دوچاگذشتہ قصے سنا دو تو اس میں بہتری کیا ہوئی اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جو کچھ تم کہتے ہو وہ تو سچ ہے مگر جو دوسرابیان کرتا ہے کہ ہمارے راہنمانے یہ معجزہ دکھایا وہ غلط ہے۔ دیکھو انجیلی میں ایسے معجزوں کا بھی ذکر ہے کہ جب عیسیٰؑ کو صلیب دیا گیا تو سب مردے قبروں سے نکل آئے ۔ ہماری عقل کا تو یہاں آکر خاتمہ ہے کہ ایک شہر میں تمام مردے کس طرح سماگئے ۔ اورپھر باوجود ان کے نکلنے کے یہودیوں نے عیسیٰؑ کو کیوں نہ مانا پس ایسے قصوں کے مقابلہ میں اگر ہماری طرف سے بھی قصے ہی ہوں تو کسی مخالف پر کیا اثر پڑسکتا ہے ۔
معجزہ شق القمر
اس پر ایک صاحب نے پوچھا۔ شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں ؟
فرمایا :۔
ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھدیا ہے ۔
معراج کی حقیقت
پھر معراج کی نسبت سوال ہوا۔ فرمایا :۔
بخاری میں جو اصح لکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے ۔ تمام معراج کا ذکر کرکے اخیر میں فاستیقظ لکھا ۔ اب تم خود سمجھ لوکہ وہ کیا تھا ۔ قرآن مجید میں بھی اس کے لئے رئویا کا لفظ ہے وما جعلنا الرئویا التیٓ اریناک (بنی اسرائیل:۶۱)
مسلمانوں کے موجودہ فرقے
پھر دوسرے صاحب نے پوچھا کہ اسلام میں جواور فرقے ہیں مثلاً حنفی ‘شافعی ‘نقشبندی ‘چشتی ‘قادری ‘کیا جیسا ان کا باہم اختلاف ہے ایسا ہی یہ ایک فرقہ ہے یا اس میں کچھ زیادہ ہے ؟
فرمایا :۔