اس بات کے اورکیا معنی رکھتا ہے کہ وہ بھی مرچکا ہے ۔غرض یہ دوشہادتیں ہیں ۔آپ خود ہی انصاف کریں کہ ان سے کیا بات ثابت ہوتی ہے ۔پس کیاوجہ ہے کہ عیسیٰؑ کے لئے خصوصیات پیدا کی جائیں ۔ پادری عیسیٰؑ کے خدا ہونے کی دلیل بیان کرتے ہیں کہ وہ مردے زندہ کرتا تھا حالانکہ خداتعالیٰ فرماتا ہے فیمسک التی قضیٰ علیھا الموت (الذمر:۴۳)اب خداتعالیٰ کے کلام میں تناقض نہیں کہ ایک آیت میں کہے مردے دوبارہ دنیا میں نہیں آتے اوردوسری میں کہے کہ مردہ زندہ ہوتے ہیں ۔ پھر نبی کریم ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے ہاتھ پر مردے زندہ ہوتے ہیں۔ لما یحییکم (الانفال :۲۵)اورسب کو معلوم ہے کہ اس سے مراد روحانی مردوں کا زندہ ہونا ہے ۔ پس مسلمان جو پادریوں کی متابعت میں عیسیٰؑ کے مردے زندہ کرنے کے قائل تھے غلطی کرتے ہیں ۔ پھر کہتے ہیں کہ جو مس شیطان سے پاک ہے وہ صرف عیسیٰؑ اوراس کی ماں ہی تھی ۔ دیکھو۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی کس قدر ہتک ہے۔ایسے ہی اور بہت سی خصوصیتیں ہیں جومسلمانوں نے عیسیٰؑ کو دے رکھی ہیں ۔ جن سے نبی کریم ﷺ کی ہتک لازم آتی ہے اورہم اس بات کو کبھی بھی گوارانہیں کرسکتے کہ اس سید الرسل سے بڑھ کر کسی کو بنایا جاوے جو عیسیٰ سے بدرجہاد افضل اوراعلیٰ تھا (اللھم صل علیٰ سید نا محمد )
مکالمات الہٰیہ جاری ہیں
پھر ان مسلمانوں کا ہم سے اس بات میں اختلاف ہے کہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ خداتعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات اس امت کے لوگوں سے قیامت تک جاری ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کیونکہ یہی تمام اولیا ء امت کا مذہب رہا ہے یادرکھو کہ دین اسلام ایسا دین نہیں جس کے کمالات پیچھے رہ گئے ہیں اورآگے کے لئے اس میں کچھ نہیں ۔اگر یہ بات ہے ہو اوراس کا دارومدار بھی قصوں پر ہی ہوتو پھر بتائو کہ اس میں اوردوسرے دینوں میں فرق کیا رہ گیا ؟اسلام میں اگر کوئی چیز مابہ الامتیاز ہے تو یہی کہ اس کے پیرو الہٰی مکالمات ومخاطبات سے مشرف سے ہوتے ہیں ۔ خشک توحید کے قائل تو اور مذاہب بھی ہیں مثلاً یہود پھر برہمو سماج ۔ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ لاالٰہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ پڑھنے کا کیافائدہ ہے ۔یہی تو فائدہ ہے کہ سید نامحمد رسول اللہ ﷺ کی متابعت وپیروی وتصدیق رسالت اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے اوران انعامات کا وارث جواگلے برگزیدہ انبیاء پر ہوئے ۔ چنانچہ فرمایا ۔ یجعل تکم فرقاناً (الانفال :۳۰)یعنی وہ تمہیں ایک فرقان دے گا ۔پس دوسرے مذاہب اوراس میں ایک مابہ الامتیاز اسی جہان میں ہونا ضروری ہے۔
ہم اپنی بات کا ذکر نہیں کرتے ۔ ہمارے معاملہ کو الگ رکھ کر کوئی ہمیں سمجھائے کہ اگر اسلام بھی خشک