حالات پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں ۔ دوم وہ لوگ ہیں جو افراط کی طرف گئے ہیں۔ اوروہ بعض انبیاء کی شان میں غلو کرتے کرتے یہانتک پہنچے ہیںکہ انہیں خداتک بنادیا ہے ۔ ایک حضرت عیسیٰؑ ہی کرلو ۔ ان کو بعض ایسی صفات کا صاحب گردانا ہے جو خاصہ الوہیت ہیں۔
حضرت عیسیٰؑ کے واسطے خصوصیت کیوں؟
وہ بیشک خداتعالیٰ کے مقربین میں سے تھے ۔ ان پر خداتعالیٰ کا فضل تھا ۔وہ اللہ تعالیٰ کی نبوت سے ممتا ز تھے مگرا ن کے لیے کوئی ایسی خصوصیت مقررکرنا جو دوسرے انبیا ء میں نہ ہو ٹھیک نہیں۔کہتے ہیں کہ آسمان پر کئی صدیوں سے بجسدہ العنصری متمکن ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ سے کفار نے قسمیں کھاکھاکر کہا کہ ہم ضرورمان لیں گے اگر آپ ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاویں ۔ اس کا جواب جو دیا گیا وہ یہ تھا کہ سبحان ربی ھل کنت الا بشرارسولا (بنی اسرائیل :۹۴)جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ایک قانون مقرر کردیا کہ فیھا تحیون توپھر اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے خلاف کیوں کرتا ۔ اگر یہ عقیدہ (عیسیٰؑ کے مع جسم آسمان پر چڑ ھ جانے کا )اس وقت کے مسلمانوں میں ہوتا تو کافروں کا حق تھا کہ انہیں یہ کہہ کر ملزم کریں کیا وجہ ہے ایک نبی کیلئے یہ امر جائز قرار دیتے ہیں اوردوسرے کیلئے نہیں حالانکہ تم اس بات کے بھی قائل ہوکہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں سے اوربالخصوص حضرت عیسیٰؑ سے افضل اور جامع کمالات نبوت ہیں۔
غرض یہ زندہ آسمان پر چڑ ھ جانے کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے بلکہ قرآن تواس عقیدہ کی تردید کرتا ہے یہ آیت ہے جو میں نے پڑھی ہے حدیث نہیں کہ اس پر ضعیف یا وضعی ہونے کا اعتراض ہوسکتا ہو۔ ساراقرآن مجید اول سے آخرتک دیکھ لو عیسیٰؑ کے اب تک زندہ رہنے کا ثبوت نہ پائو گے ۔ اگر پائو گے تو یہ کہ فلما توفیتنی عیسیٰ علیہ السلام رب العزت کے حضور عرض کررہے ہیں ۔ جب تونے مجھے وفات دی تو پھر تونگران حال تھا ۔میں دوبارہ نہیں آیا اور یہ کہ عیسائی میرے بعد بگڑے ہیں۔توفی کے معنے موت ایسی بدیہی بات ہے کہ اس کا انکار نہیں ہوسکتا ۔ یہ لفظ قرآن مجید میں اورانبیاء کے لئے بھی آیا ہے مثلاً حضرت یوسف ؑ نے کہا توفنی مسلما (یوسف :۱۰۲)اورخود نبی کریم ﷺ کے بارے میں اونتو فینک (یونس :۴۷)دونو بات تفعل سے ہیں ۔کسی لغت کی کتاب میں بھی اس کے خلاف معنے نہ پائو گے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے کلام کی شہادت ہوئی ۔ اب نبی کریم ﷺ کی فعلی شہادت کی طرف دیکھو جو آپ کی رویت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے معراج کی رات عیسیٰ کو یحییٰ کے ساتھ دیکھا۔ اب اس میں توکسی مسلمان کو شک نہیں کہ یحییٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ پس فوت شدہ گروہ میں جو بہشت جاچکا ہے کسی کو دیکھنا سوا