مرغی پھڑک رہی ہے ذبح کر لی جائے ؟ فرمایا:۔ ایسے مسائل میں اصول کے طور پر یادرکھو کہ دین میں صرف قیاس کرنا سخت منع ہے ۔ قیاس وہ جائز ہے جو قرآن و حدیث سے مستنبط ہو۔ ہمارا دین منقولی طور سے ہمارے پاس پہنچا ہے ۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو خیر ورنہ کیا ضرورت ہے دو چار آنے کے لئے ایمان میں خلل ڈالنے کی ۔ لا تقولو الما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام (النحل : ۱۱۷) اندازی پیشگوئی ٹل سکتی ہے آنے والے زلزلہ کی نسبت سوال ہوا ؛فرمایا: حقیقہ الوحی پڑھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے حکم میں کچھ منسوخ بھی فرمادیا ہے ۔ چنانچہ فرمایا یوخر ھم الی اجل مسمی ( النحل : ۴۲) ہمار ا خدا قادر مطلق خدا ہے ۔ وہ کامل اختیارات رکھتا ہے ۔ یمحواللہ مایشاء ۔ ہمارایمان ہے ۔ وہ جو تشی کی طرح نہیں ۔ وہ ایک حکم صبح دیتا ہے اور رات کو اس کے بدلنے کے کامل اختیارات رکھتا ہے ۔ ماننسخ من ایتہ ( البقرۃ :۱۰۷ ) والی آیت اس پر گواہ ہے ۔ آخر صدقہ واستغفار سے رد بلا ہوتا ہے ۔بلا کیا چیز ہے ۔ یعنی وہ تکلیف دہ امر جو خدا تعالیٰ کے ارادے میں مقدر ہو چکا ہے ۔ اب اس بلا کی اطلا ع جب کوئی نبی دے تو وہ پیشگوئی بن جاتی ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ ارحم الرحمین ۔ وہ تضرع کرنے والون پر اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے ۔ اس لئے ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں اٹل ہیں ۔ بلکہ وہ ٹل جاتی ہیں ۔ دیکھو جہاں میں نے زلزلہ کا ذکر کیا ۔ وہاں ساتھ ہی توبہ استغفار تضرع و صدقہ کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ جس سے یہ مراد ہے کہ یہ عظیم بلا ٹل سکتی ہے ۔ افسوس لوگ ہماری عداوت میں ایسے بڑ ھ گئے ہیں ۔ کہ وہ اسلام کے مسائل کو بھی بھول گئے ہیں ۔ وہ ماکان اللہ معذ بھم وھم یستغفرون ( الانفال : ۳۴) اور پھر ہم پر اعتراض کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہدایت کرے ۔ ۱؎ ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء ۱۰ بجے دن دو معزز بیرسٹرایٹ لاء ملاقات کو آئے ۔ ان سے مفصلہ ذیل مکالمہ ہوا۔ ۱؎ بدر جلد ۷ نمبر ۱۹۔۲۰ صفحہ ۳،۴ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۸ئ؁