ھو اضحک وابکی ( النجم : ۴۴)
اصلاح کا صحیح طریق
ڈاڑھی منڈ وانے کا ذکر آیا : فرمایا:۔
لوگ کن بیہودہ اعتراضوں میں پڑے ہیں وہ ظاہر کو دیکھتے ہیں ۔ ہماری نگاہ باطن پر ہے جب انسان کا دل پاک ہو جائے تو پھر یہ معمولی اصلاحیں خود بخود ہو جاتی ہیں ۔ اگر پہلے ہی ایسی باتوں پر اعتراض کر دیا جائے تو انسان ابتلاء میں آجاتا ہے ۔ اور بہت سی بڑی باتوں سے محروم رہ جاتاہے ۔ بعض نو مسلم صحابہؓ پر بھی ایسے اعتراض کئے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ یوں نہیں چاہیئے ۔ جب انسان نے ایک صداقت کو اختیار کر لیا تو آہستہ آہستہ دوسری صداقتوں کے اختیار کی توفیق بھی حاصل ہو جائیگی ۔ تدریجی احکام اسی لئے نازل ہوتے رہے ۔ شراب کی حرمت یکدم نازل ہوئی ۔ کہ ابھی طبائع تیار نہ ہو ئی تھیں ایسے لغو معترضوں سے ہمیں امید نہیں کہ ہو کچھ بھی فائد حاصل کریں ۔ وہ اگر آنحضرتﷺ نے زنمانہ میں بھی ہوتے تو ان پر بھی اعتراض ہوتے رہے ہیں ۔ چنانچہ بعض نادانوں نے کہد یا مال ھذاالرسول یاکل الطعام ویمشی فی الاسواق ( الفرقان : ۸) طعام سے مراد اچھا مکلف عمدہ کھانا ہے جب انکار حد سے گذر جاتا ہے تو ایسے ہی اعتراض سوجھتے ہیں ۔
اس پر ایک دوست نے ذکر کیا کہ ایک شخص کہتا تھا کہ اگر قرآن سے حضرت کی صداقت کا ثبوت مل جائے تو میں اس قرآن کو بھی نہیں مانتا۔ اگر خدا اپنے نشانوں سے سچا ثابت کر دے تو میں اس خدا پر بھی ایمان نہ لائوں
یہ لعنتی قول انتہا ء درجے کی قسادت قلبی پر دال ہے
خلوص کی قدر
حضرت عیسیٰ ؑ پر ایک شخص نے جو ان کا مرید بھی تھا اعتراض کیا کہ آپ نے ایک فاحشہ سے عطر کیوں ملوایا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھ تو پانی سے میرے پائوں دھوتا ہے اور یہ آنسوئوں سے ۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک خلوص کی قدر ہوتی ہے ۔ اور میں سچ کہتا ہوں کہ آجکل کے جو فقیہ اور فریسی میں ان سے ایسی کنچنیاں پہلے بہشت میں جائیں گی ۔ درحقیقت انہوں نے اس زمانہ کے علماء کی حالت کے اعتبار سے ٹھیک کہا۔
جائز قیاس وہ ہے جو قرآن و سنت سے مستنبط ہو۔
ایک شخص نے مسئلہ پوچھا ۔ مرغی کی گردن بلی اتار کر لے گئی ۔