بلا تاریخ ۲؎
نماز تراویح:۔ اکمل صاحب آف گولیکی نے بذریعہ تحریر حضرت سے دریافت کیا کہ رمضان شریف میں رات کو اٹھنے اور نمازپڑھنے کی تاکید ہے۔ لیکن عموماً محنت مزدور ۔ زمیندار لوگ جو ایسے اعمال بجالانے میں غفلت دکھاتے ہیں اگر اول شب میں ان کو گیارہ رکعت تراویح بجائے آخر شب کے پڑھادی جاویں تو کیا یہ جائز ہوگا؟
حضرت اقدس نے جواب میں فرمایا:۔
کچھ ہرج نہیں پڑھ لیں
توکل علیٰ اللہ :۔
کسی دشمن کا ذکر تھا کہ وہ شر کرے گا اور حضور کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ فرمایا :۔
ہم اس بات سے کب ڈرتے ہیں وہ بے شک کرے بلکہ ہم خوش ہیں کہ وہ ایسا کرے کیوں کہ ایسے ہی موقعہ پر اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے نشانات دکھلاتا ہے ۔ ہم خوب دیکھ چکے ہیں کہ جب کبھی کسی دشمن نے ہمارے ساتھ بدی کے واسطے منصوبہ کیا خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اس میں سے ایک نشان ہماری تائید میں ظاہر فرمایا۔ ہمارا بھروسہ خدا پر ہے انسان کچھ چیز نہیں۔
باوانانک مسلمان تھے :۔
ایک سکھ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا۔ باوا صاحب کا ذکر آیا۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔
باوا صاحب مسلمان تھے اور نماز پڑھتے تھے ۔ سکھ لوگ بڑی غلطی کرتے ہیں۔ جو اپنے گورو کے مذہب کو چھوڑ کر بے ہودہ باتوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور بت پرست ہندوؤں کے ساتھ اپنے تعلقات پیدا کرلیے ہیں۔ اس سکھ نے جواب دیا کہ بے شک باوا صاحب فرماگئے ہیں کہ بے نماز گتا ہوتا ہے اور صبح سویرے اٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھنی چاہیئے ۔۳؎