مخلصانہ بیان کا اثر
بیان میں جب تک روحانیت اور تقویٰ وطہارت او ر سچا جوش نہ ہو اس کا کچھ نیک نتیجہ مرتب نہیں ہوتا ہے ۔ وہ بیان جو کہ بغیر روحانیت و خلوص کے ہے وہ اس پر نالہ کے پانی کی مانند ہے ۔ جو موقعہ بے موقعہ جو ش سے پڑ جاتا ہے اور جس پر پڑتا ہے اسے بجائے پاک و صاف کرنے کے پلید کر دیتا ہے ۔ انسان کو پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے ۔ پھر دوسروں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ یا ایھا الذین امنو ا علیکم انفسکم ( المائدۃ : ۱۰۶)یعنی اے مومنو پہلے اپنی جان کی فکر کرو ۔ اگر تم اپنے وجود کو مفید ثابت کرنا چاہو تو پہلے خود پاکیزہ وجود بن جائو۔ ایسا نہ ہو کہ باتیں ہی باتیں ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کچھ اثر دکھائی نہ دے ۔ ایسے شخص کی مثال اس طرح سے ہے کہ کوئی شخص ہے جو سخت تاریکی میں بیٹھا ہے ۔ اب اگر یہ بھی تاریکی ہی لے گیا تو سوائے اس کے کہ کسی پر گر پڑے او ر کیا ہوگا۔ اسے چراغ بن کر جانا چاہیے تاکہ اس کے ذریعہ سے دوسرے روشنی پائیں ۔
دل کا تقدس اور تطہر ہی صحیح ہتھیار ہیں ۔
جسمانی علوم پر نازاں ہونا حماقت ہے ۔ چاہے کہ تمہاری طاقت روح کی طاقت ہو۔ خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے سائنس یا فلسفہ یا منطق پڑھایا اور ان سے مدد دی بلکہ یہ کہ اید ھم بروح منہ ( المجادلۃ :۲۳) یعنی اپنی روح سے مدد دی ۔ صحابہ ؓ امی تھے ۔ ان کا نبی ( سیدنا محمد ﷺ ) بھی امی ۔ مگر جو پر حکمت باتیں انہوں نے بیان کیں وہ بڑے بڑے علماء کو نہیں سوجھیں ۔ کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ کی خاص تائید تھی۔ تقویٰ و طہارت پاکیز گی سے اندرونی طور سے مدد ملتی ہے ۔ یہ جسمانی علوم کے ہتھیار کمزور ہیں ۔ ممکن بلکہ اغلب ہے کہ مخالف کے پاس ان سے بھی زیادہ تیز ہتھیار ہوں پس ہتھیار وہ چاہیے جس کا مقابلہ دشمن نہ کرسکے ۔ وہ ہتھیار سچی تبدیلی اور دل کا تقدس و تطہر ہے ۔ جسے نزول الماء ہو ۔دوسروں کے نزول الماء کو کیا تندرست کرے گا۔ صاحب باطن کی بات اگر اس وقت بظاہر رد بھی کر دی جائے تو بھی وہ خالی نہیں جاتی بلکہ انسانی زندگی پر ایک خفیہ اثر کرتی ہے ۔
سخن کز دل بروں آید نشیند لاجرم بردل
بوقت ظہر
ہنسی
ہنسی کے متعلق ذکر تھا ۔ فرمایا:۔
جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ وہ فرماتا ہے انہ