۱۴مئی ۱۹۰۸ء
بوقت صبح
کلام کی عمدگی
فرمایا :۔
قرآن مجید ایک ایسی غذا کی مانند ہے جو ہر طبقے ہر مزاج کے لوگوں کے مناسب حال ہے اور یہی اس کے خداتعالیٰ کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہے ۔ ہم چاہتے ہیں ہماری جماعت کے لوگ بھی بولنا سیکھیں ۔ ان کا طرز تقریر بھی ایسا ہی ہوکہ جینا وہ اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے بھی مفید اورادنیٰ کے لئے بھی فائدہ رساں ہے ۔اصل میں کلام کی عمدگی یہی ہے کہ وہ ہر قسم کے لوگوں کے مطابق حال ہو۔
اسلام ایک وسطی راہ ہے
فرمایا :۔
خداتعالیٰ نے اسلام کو دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ بنایا ہے ۔اس میں ایسی وسطی راہ اختیار کی گئی ہے جو افراط وتفریط سے بالکل خالی ہے ۔وکذالک جعلنکم امۃ وسطا لتکو نواشھدآء علی الناس (البقرۃ:۱۴۴)
الزامی جواب کا جواز
فرمایا :۔
جواب دوقسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک تحقیقی ‘دوسرے الزامی ۔اللہ تعالیٰ نے بھی بعض جگہ الزامی جوابوں سے کام لیا ہے اس میں معترض کو اپنے مذہب کی کمزوری معلوم ہوتی ہے ۔ چنانچہ جب عیسائیوں نے کہا کہ عیسیٰؑ خداکا بیٹا ہے اوردلیل یہ کہ مریم کنواری کے پیٹ سے پیدا ہواتواللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم (ال عمران :۶۰)یعنی اگر یہی اس کا بیٹا ہونے کا ثبوت ہے توآدم بطریق اول بیٹا ہونا چاہئیے ۔
چھوت چھات
چھوت وغیرہ دراصل اس بات کا نشان ہے کہ ہندوئوں کا مذہب کمزور ہے جو ہاتھ لگانے سے بھی جاتا رہتا ہے ۔اسلام کی بنیاد چونکہ قوی تھی اس لئے اس نے ایسی باتوں کو اپنے مذہب میں نہیں رکھا۔ چنانچہ کھانے کے متعلق فرمادیا لیس علیکم جناح ان تاکلواجمیعا اواشتاتا(النور :۶۲)