رہیں اور منفی سے کام نہ لیں تو ایک دن ایسا ہو گا کہ منفی آہستہ آہستہ جمع ہو کر زور پکڑ جاوے گی اور کسی وقت یک دفعہ پھوٹ کر دنیا کو تباہ کر دے گی ۔ یہی حال نیکی اور بدی کاہے اگر تمام دنیا میں نیکی ہی نیکی کی جاوے اور کوئی بدی نہ کرے تو اس طرح ایک دن بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔
جواب :۔فرمایا:۔
دیکھو۔ اگر ایک شخص چلا کر بولنے پر قادر ہی نہیں تو اس کا نرمی سے بولنا اخلاق فاضلہ میں سے نہیں ۔ سمجھا جاوے گا۔ اگر انسان ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم رہتا اور دوسرا پہلو بدل ہی نہ سکتا تو پھر نیکی نیکی ہی نہ رہ سکتی۔ افراط اور تفریط دونو کی موجودگی ہی نیکی پیدا کرتی ہے ۔ یکطرفہ حالات ہوتے اور دوسرے قویٰ انسان کو دئیے ہی نہ جاتے اور انسان ہمیشہ نیکی کے واسطے ہی مجبور ہوتا ۔ بدی کرنے کی طاقت ہی اسے نہ ملتی تو پھر فرمانبردار ی اور نیکی نام ہی کس چیز کا ہوتا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک حدتک اختیار دیا ہے ۔ادھر بھی پہلو بدل سکتا ہے۔ اوربدی کا بھی اختیار ۔ اب جیسا کریگا اس کا اجر پاوے گا۔
دیکھو اگر اخلاق بد نہ ہوتے تو اخلاق فاضلہ کن کانام ہو ستا ۔ اخلاق رذیلہ ہوئے جب ہی اخلاق فاضلہ بھی ہوئے ۔ کوئی اخلاق بد انسان کے ذہن میں ہوتے ہین جب ہی تو انسان کاان نقشہ ذہن میں رکھ کر ان کی مذمت کرتا اور اخلاق فاضلہ کسی خاص کام کا نام رکھتا ہے اور ان کی تعریف کرتا ہے ۔ اگر ذہن میں کوئی کسی امر بد کا نقشہ موجود نہیں تو پھر اخلاق حسنہ بھی کچھ نہیں ۔ ہمیشہ بدی سے ہی نیکی ممتاز کی جاتی ہے اگر ایک ہی پہلو پیدا کیا جاتا تو یقینا کوئی اجر بی نہ ہوتا اور کئی خوشنو دی بھی نہ ہوتی ۔ (رنج سے راحت دکھ سے سکھ ظلم سے نور کڑوے سے میٹھا زہر سے تریاق بد سے نیک اور گناہ سے نیکی پیدا ہوتی ہے ۔ اگر یہ ضدیں دنیا میں پیدا نہ کی جاتیں تو پھر زندگی ہی بد مزہ ہو جاتی ) اگر صرف ایک ہی پہلو ہوتا تو وہ تو فطرت میں داخل تھا ۔اس پر اجر کیسا اور ثواب کیا۔ وہ ذریعہ رضامندی کیونکر ہو سکتا۔ وہ تو ایک مجبوری تھی کہ فطرتاًانان سے اس کے مطابق ہی اعمال سر زد ہوتے ۔ یاد رکھو کہ انسان ذو اختیار بنایا گیا ہے ۔ انسان کو اختیار ہے کہ نیکی کرے یا بدی ۔ احسان کرے یا ظلم مروت کرے یا بخل ہمیشہ دونوپہلو ئوں پر لحاظ رکھ کر ہی کسی خاص انسان کے متعلق رائے زنی ہو سکتی ہے کہ نیک ہے یا بد اعمال کا مفہوم ہی یہی ہے کہ دوسری طرف بھی قدرت رکھتا ہو جو انتقام لینے کی طاقت رکھتے ہوئے انتقام نہیں لیتا وہ نیکی کرتا ہے ۔ مگر جس کو انتقام کے واسطے مکہ مارنے کا ہاتھ ہیں نہیں دیا گیا وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور احسان کیا کہ مکہ نہیں مارا۔ قد