اپنی تقدس کی وجہ سے پسند نہیں کرتا وہی گناہ ہے ۔ اگر بعض امور میں لوگوں کا اختلاف ہے ۔ تو دوسری طرف اکثر حصہ گناہ کا دنیا میں مشترکہ طور سے مسلم ہے ۔جھوٹ چوری زنا اور ظلم وغیرہ ایسے امور ہیں کہ تمام مذہب و ملت کے لوگ مشترکہ طور سے ان کوگناہ ہی یقین کرتے ہیں ۔ مگر یادرکھو کہ گناہ کی جڑ وہی امور ہیں جو خدا سے بعید کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی تقدیس کے خلاف ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی ذات تقاضے کے برخلاف اور فطرت انسانی کے واسطے مضر ہیں وہی گناہ ہیں۔ ہر انسان گناہ کو محسوس کرتا ہے ۔ دیکھو جب کوئی کسی بے گناہ کو طما نچہ مارتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا حق نہیں کہ ایسا کروں ۔ وہ آخر ایک وقت جب ٹھنڈے دل سے بیٹھے گا اپنے دل میں خود نادم او ر شرمندہ ہو گا اور محسوس کریگا کہ میں نے برا کیا۔ ایک انسان جو کسی بھوکے کو کھان دیتا ہے ۔ پیاسے کو پانی پلاتا ہے ننگے کو کپڑا پہناتا ہے ۔ وہ اپنے اندر ہی اندر ایک قسم کا احساس پاتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور اچھا کام کیا۔ انسان کا دل اور کا نشنس نور ایمان ہر کام کے وقت اس کو معلوم کر ا دیتا ہے ۔ کہ آیا اس نے ثواب کیا یا گنا ہ کیا۔
شیطان
شیطان کے لئے یہ یادرکھنا چاہیے کہ انسان کی سرشت اور بناوٹ میں دو قوتیں رکھی گئی ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور یہ اس واسطے رکھی گئی ہیں کہ انسان ان کی وجہ سے آزمائش اور امتحان میں پڑ کر بصورت کامیاب قرب الہٰی کا مستحق ہو۔ ان دو قوتوں میں سے ایک قوت نیکی کی طرف کھینچتی ہے ۔ اور دوسری بدی کی طرف بلاتی ہے ۔ نیکی کی طرف کھینچنے والی قوت کانام ملک یا فرشتہ ہے اور بدی کی طرف بلانے والی قوت کانام شیطان ہے یا بالفاظ دیگر یوں سمجھ لو کہ انسان کے ساتھ دو قوتیں کام کرتی ہیں ۔ ایک داعی خیر اور دوسری داعی شر ۔ اگر کسی کو شیطان اور فرشتہ کا لفظ گراں گذرتا ہے تو یوں ہی سمجھ لے انسان میں دو قوتوں سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ نے کسی بدی کا کبھی ارادہ نہیں کیا۔ خدا تعالیٰ نے جو کیا خیرہی خیر کیا ہے ۔
دیکھو اگر دنیا میں گناہ وجود نہ ہوتا تو نیکی بھی نہ ہوتی۔ نیکی گناہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ گناہ کے وجود سے ہی نیکی کاوجود پیدا ہوتا ہے ۔ دیکھو اگر کسی کو زنا کا موقعہ ملتا ہے اور اس طاقت موجود ہے اور پھر وہ گناہ سے بچتا ہے تو اس کانام نیکی ہے ۔ اگر کسی کو چوری اور ظلم وغیرہ گناہ کے مواقع ملتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس کے کرنے پر قادر بھی ہو۔ بایں ہمہ وہ ان کا ارتکاب نہ کرے اور اپنے آپ کو بچاوے تو وہ نیکی کرتا ہے ۔ گناہ کا موقعہ اور دقدرت پاکر گناہ نہ کرنا یہی ثواب اور نیکی ہے ۔
سوال: دنیا میں دو مختلف طاقتیں کام کرتی ہیں ۔ مثبت اور منفی ۔ اگر ہم ہمیشہ مثبت سے کام لیتے