افلع من زکھا وقد خاب من دسھا ( الشمس :۱۰‘۱۱)اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نیکی اور خوبی کا مدارہی دونو پہلوئوں پر ہے جس کو ایک ہی قوت دی گئی ہے اور دوسری قوت اس کو عطا نہیں ہوئی وہ تو ایک نقش ہے جو مٹ نہیں سکتا۔ جو شخص ملک اور شیطان کا انکار کرتا ہے وہ گویا بد یہیات اور امور محسوسہ مشہودہ کا انکاری ہے ۔ ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ لوگ نیکی بھی کرتے ہین اور ارتکاب جرائم بھی دنیا میں ہوتا ہے اور دونو قوتیں دنیا میں برابر اپنا کام کررہی ہیں ۔ اور ان کا تو کئی فردبشر بھی انکا ر نہیں کر سکتا۔ کون ہے جو ان دونوں کا احساس اور اثر اپنے اندر نہیں پاتا ۔ یہاں کوئی فلسفہ اور منطق پیش نہیں جاتی ۔ جبکہ دونو قوتیں موجو د ہیں ۔ اور اپنی اپنی جگہ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں ۔ باقی یہ امر اگر نیکی ہی نیکی کی جاوے تو بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔ اس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہین کہ ہمیں اس سے تعلق نہیں کہ ایسا ہوتو ایسا ہو اور ایسا ہو تو ایسا ہو ۔ ہم اتنا دیکھتے ہیں کہ طبیعتیں مستعد بنائی جاتی ہیں ۔ کیا اخلاق فاضلہ کے واسطے اور کیا رذیلہ کے واسطے ہم اس سے آگے نہیں بڑھتے ۔ سوال:۔ عیسائیوں میں یہ ایک مسئلہ مشہور ہے کہ دنیا گمراہ ہو گئی تھی مگر خدا نے پھر شیطان سے اس کو خریدا کیا یہ صحیح ہے ؟ جواب:۔فرمایا:۔ ہم ایسی لغو باتوں کے قائل نہیں ۔ یہ ایک لغو بات ہے ۔ عیسائیوں سے پوچھا جاوے ۔ سوال :۔ عیسائی عقائد سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم ایک اعلیٰ حالت سے ادنیٰ حالت کی طرف آگئے تھے حالانکہ انسان ادنی سے اعلی کی طرف ترقی کرتا ہے ۔ جواب :فرمایا:۔، یہ ہمارا عقیدہ نہیں اور نہ ہی اس کو مانتے ہیں ۔ سوال: میں آئندہ زندگی کو مانتا ہوں کہ وہ ایک چولہ ہے ۔ انسان اس کے ذریعے ایک حالت سے دوسرے حالت میں چلا جاتا ہے ۔ مجھے سپر چول ازم سے خاص دلچسپی ہے ۔ میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آئندہ زندگی کس طرح سے ہوگی اور وہاں کیا کیا حالا تو ہوں گے ۔ جواب:۔ فرمایا:۔ بیشک اس زندگی کا خاتمہ ہو کر ایک اور نئے رنگ کی شروع ہو گی مگر اس وقت ابھی وقت نہیں کہ اس کی تفصیل بیان کریں ۔ جہنوں نے اس زندگی میں اچھی تخمر یزی کی ہو گی۔ ان کے واسطے ایک پاک