گناہ کی حقیقت
جواب: اصل میں جو لوگ خدا تعالیٰ کی ہستی کو ماننے والے ہیں ۔ ہم ان کے مذاق پر گفتگو کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی ذات انسان کی زندگی کے واسطے ایک دائمی راحت اور خوشی کا سر چشمہ ہے ۔ جو شخص اس سے الگ ہوتا ہے یا کسی نہ کسی پہلو سے اس کو چھوڑتا ہے ۔ اس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اس شخص نے گناہ کیا۔ خدا تعالیٰ نے فطرت انسانی پر نظر ڈال کر جو اعمال باریک در باریک رنگ میں خود انسان کی اپنی ہی ذات کے واسطے مضر پڑنے والے تھے۔ ان کانام بھی گناہ رکھا۔ گو بعض اوقات انسان انکی مضرت کو نہ سمجھ سکتاہو۔، مثلاً چوری کرنا اور دوسروں کے حقوق میں دست اندازی کرکے ان کو نقصان پہنچانا ۔ گویا خود اپنی پاک زندگی کو نقصان پہچاتا ہے ۔ زانی کا زناکرنااور دوسروں کے حق میں دست درازی کرنا اور خود اپنی فطرت کی پاکیزگی کو برباد کرنا اور طرح طرح کی مشکلات جسمانی روحانی میں مبتلا ہوتا ہے اس طرح سے وہ امور بھی جو فطرت انسانی کی پاکیزگی اور طہار ت کے خلاف ہوں گناہ کہلاتے ہیں اور پھر ان امور کے لوازم قریبہ یا بعیدہ بھی گناہ کے ضم ضمیمہ ہی سمجھے جاتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ جو سب سے بڑا اور سب سے زیادہ علم والا ۔ انسان اور ذرہ ذرہ کا خالق حقیقی ہے اور وہ ان کے خواص کا بھی خالق اور دانا ہے ۔ وہ اپنی کامل حکمت اور کامل علم سے ایک بات تجویز کرتا ہے کہ یہ تمہارے حق میں مضر ہے اس کا ارتکاب ہر گز ہرگز تمہارے حق میں مفید نہیں بلکہ سراسر مضر ہے تو اناسن ہان سلیم الفظرت انسان کا یہ کام نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرے ۔ ہم دیکھتے ہیں ۔ کہ ایک ڈاکٹر جب ایک مریض کے واسطے کوئی پرہیز تجویز کرتا ہے ۔ تو بیمار کس طرح بے چون و چر ااس کی تعمیل کرتا ہے کیوں ایسا کرتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ڈاکٹر کو اپنے سے زیادہ وسیع معلمومات رکھنے والا یقین کرتا ہے ۔
غرض اسی طرح بعض امور ایسے بھی ہیں کہ وہ انسان کے جسم یاروح کے واسطے مضر ہوتے ہیں خواہ انسان سمجھے یا نہ سمجھے بعض امور ایسے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ان کے واسطے نہ بھی حکم دتا تو بھی وہ مضر ہی تھے طب جسمانی میں بھی بعض گناہ رکھے گئے ہیں ۔ قواعد طب کا علم نہ ہونا عذر نہیں ہو سکتا اس شخص کے واسطے جو خلاف ورزی قواعد طب کرتا ہے ۔ اگر کسی کو یقین نہ ہو تو ڈاکٹروں اور اطباء میں سے پوچھ لو۔ یادرکھنے کے لائق نکتہ یہی ہے کہ گناہ کی جڑ وہی امور ہیں ۔ جن کے کرنے سے سچی پاکیزگی اور تقویٰ طہارت سے انسان دور جا پڑ ے خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور اس کا وصال ہی سچی راحت اور حقیقی آرام ہے ۔ پس خداسے دوری اور الگ ہونا بھی گناہ اور باعث دکھ اور رنج ومصیبت ہے جن باتوں کو خدا