ابلغ اورمحکم ترتیب اور نظام شمسی وغیرہ سے اتنا نتیجہ نکال سکتا تھا کہ خداہونا چاہئیے ۔باقی یہ امر کہ یقینا خداہے اور وہ دنیا کا مالک ‘متصرف اورحکمران ہے ۔بجز خداسے آکر خدانمائی کرنے والوں کے ممکن نہیں ۔وہ لوگ مشاہد ہ کرانے والے ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ نشانوں کے پیش کرنے سے گویا خداکو دکھادیتے ہیں ۔
سوال ـ:۔ لکھا ہے کہ ایک آدم اورحوا تھے ۔ حوایک کمزور عورت تھی ۔اس نے ایک سیب کھالیا ۔ اب اس کے ایک سیب کھانے کی سز اہمیشہ جاری رہے گی ۔یہ امرمیری سمجھ میں نہیں آتا اورکہ یہ زمین جس سے ہمارا تعلق ہے اس کے سوااور ہزاروں کروڑوں سلسلے خدا نے پیدا کئے ہیں ۔ تو خداتعالیٰ کی قدرت اور انعامات کوکیوں اس زمین تک محدود کیا جاتا ہے ۔
جواب:۔ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس آسمان اور زمین کے سوا اور کوئی سلسلہ ہی نہیں ۔ بلکہ ہمارا خدا کہتا ہے کہ وہ رب العالمین ہے یعنی کہ وہ کل جہانوں کا رب ہے ۔ اور کہ جہاں کوئی آبادی ہے وہاں وہاں ہی اس نے رسول بھیجے ہیں ۔ عدم علم سے عدم شیء لازم نہیں آتی۔ جس خدا نے اس ایک چھوٹی سی زمین کے واسطے اتنا وسیع سامان پیدا کیا ۔ اس نے کیوں دوسری تمام آبادیوں کے واسطے سامان نہ پیدا کئے ہوں گے۔ وہ سب کا یکساں رب ہے اور سب کی ضرورتوں سے واقف ہے ۔
باقی یہ کہنا کہ انسانی رنج ومحن حوا کے سیب کھانے کی وجہ سے ہیں اسلام کا یہ عقیدہ نہیں ۔ ہمیں تو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ لا تز رو ازرۃ وز راخری ( الانعام : ۱۶۵) زید بے بدلے بکر کو سزا نہیں مل سکتی اور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ متصور ہے ۔ حوا کی سیب خوری ان مشکلات اور رنج و سزا کا باعث نہیں ہے بلکہ ان کی وجوہات قرآن نے کچھ اور ہی بیان فرمائے ہیں ۔
سوال: دو باتیں میں دریافت کرنا چاہتا ہوں ۔ ایک یہ کہ گناہ کیا چیز ہے ۔ ایک ملک اکا انسان ایک امر کو گناہ یقین کرتا ہے ۔ حالانکہ ایک دوسرے ملک کا انسان اسی امر کو گناہ نہیں سمجھتا۔ انسان ایک کیڑے سے ترقی کرتا کرتا انسان بنا اور پھر حق و باطل میں امتیاز حاصل کیا۔ صداقت اور جھوٹ میں کیا فرق ہے ۔ نیکی اور بدی کو سمجھا۔ گناہ اور ثواب کا علم پیدا کیا۔ باینہمہ پھر اس امر میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ایک امر ایک شخص کے نزدیک گناہ ۔ دوسرا اس کو گناہ نہیں سمجھتا او ر کرتا ہے ۔
دوسرا شیطان کیا چیز ہے ۔ خدا تعالیٰ کے اس علم اور قدرت کا مالک ہوتے ہوئے بھی شیطان کا اس قدر قابو پا جانا کہ اس کی اصلاح کے واسطے خود خدا کو دنیا میں آنا پڑا۔ اس سے کیا مرادہے ؟