گذشتہ انبیاء کے وقت میں پیدا ہواتھا باعث زندگی نہیں ہوسکتا اور وہ پانی جو پہلے لوگوں کے واسطے تھا ہماری پیاس نہیں مٹاسکتا اسی طرح روحانی طورسے بھی ہمیں تازہ بتازہ روحانی غذا اورپانی کی ضرورت ہے۔ یہ عادت اللہ ہے کہ جس طرح سے وہ جسمانی سلسلے کی پرورش اورتربیت کرتا ہے اورگذشتہ پرورش کافی نہیں ہوتی اسی طرح سے روحانی سلسلہ کا حال ہے اورروحانی جسمانی دونو سلسلے پہلو بہ پہلو چلتے ہیں ۔اگر کوئی شخص خداسے ہی منکر ہوتو اس بحث کا الگ ایک طریق ہے ۔خداتعالیٰ کے قائل کو چاہئیے کہ دونوں سلسلوں کو بالمقابل رکھ کر ایک ہی نظر سے دیکھ کر فائدہ اٹھائے ۔جس نے جسمانی سلسلہ پیدا کیا ہے اسی نے روحانی سلسلہ بھی پیدا کیا ہے ۔ جس طرح وہ جسمانی سلسلہ کی تازہ بتازہ پرورش کرتا ہے اسی طرح وہ روحانی سلسلہ کی بھی تازہ بتازہ پرورش کرتا ہے ۔جس طرح جسمانی حالت ایک تازہ پانی کی محتاج ہے اسی طرح روحانی حالت بھی تازہ آسمانی وحی کی محتاج ہے ۔جس طرح جسم بغیر پرورش کے مرجاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر پرورش کے مردہ ہوجاتی ہے ۔روحانی امور میں اگر ہمیشہ گذشتہ ہی گذشتہ کا حوالہ دیا جاوے تو بجز اس کے روحانی حالت ایک مردہ حالت ہوجاوے گی اور کیا ہوسکتا ہے ؟ خداتعالیٰ ہمیشہ طبعاً چاہتا ہے کہ وہ پہچانا جاوے ۔ وہ اپنی شناخت اورزندگی کے ثبوت میں ہمیشہ حقائق ‘معارف اورتازہ بتازہ نشان دکھایا کرتا ہے اوریہ امور کوئی عقلی استبعاد بھی نہیں رکھتے ۔ یہی سلسلہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے ۔ ہزاروں لاکھوں انبیاء آئے انہوں نے عملی طورسے ثبوت دئیے۔ دنیا پر حجت پوری کی ۔ اب کوئی شخص صرف یہ کہہ کر کہ میں سائنس دان یا فلاسفر ہوں ایک ایسی متواتر اور ثابت شدہ شہادت کو کیسے توڑ سکتا ہے ۔ چاہئیے کہ جس طر ح سے اس گروہ پاک نے عملی زندگی اور نمونے سے اپنے دعویٰ کا ثبوت دیا اسی طرح سے اس کارد بھی کیا جاتا ہے ۔ہاں البتہ ان لوگوں کو یہ کہنے کا حق پہنچتا تھا کہ پرانے قصے کہا نیاں کیو ں پیش کی جاتی ہیں کوئی زندہ نمونہ یا ثبوت پیش کیا جاوے ۔ سواس کے واسطے ہم تیار ہیں ۔ صرف ہیئت دان اپنی ہیئت وغیرہ یا نظام شمسی میں غور کرنے سے خداتعالیٰ کے وجود کا یقینی ثبوت بہم نہیں پہنچا سکتا ۔ البتہ ایک امکان پیدا ہوسکتا ہے کہ خدا ہونا چاہئیے ۔یہ بات کہ خداہے اوریقینا ہے ہمیشہ انبیاء کے پیش کردہ اصول سے ہی ثابت ہوتا رہا ہے ۔ اگر ہماری طرح کے انسان دنیا میں نہ آتے تو خدا کے ثبوت کاکوئی حقیقی اور کامل ذریعہ ہر گز ہرگز دنیا میں نہ ہوتا ۔زیادہ سے زیادہ اگر کوئی منصف مزاج ہوتا اور شرافت بھی اس کے حصہ میںآئی ہوتی تو اس