کی سیر کے ارادے سے وطن سے نکلا اور علم ہئیت پر بڑے بڑے لیکچردیتا پھرتا ہے ۔ چنانچہ چند روز سے لاہور میں وارد ہے اورایک لیکچرلاہور میں بھی دیا جس میں بڑے بڑے انگریزلیکچر سننے کے واسطے شامل تھے ۔ حضرت مفتی محمد صادق بھی حسن اتفاق سے لیکچر میں موجود تھے ۔لیکچر کے خاتمہ پر مفتی صاحب ممدوح نے پروفیسر صاحب نے ملاقات کی اورحضرت اقدس کے دعاوی اوردلائل وغیرہ ان کو سنائے ۔چنانچہ پروفیسر موصوف اسی وقت تیار ہوگیا کہ حضرت اقدس کے حضور حاضر ہومگر مفتی صاحب نے کہا کہ پہلے میں حضرت اقدس سے اجازت لے کر وقت مقررکرالوں پھر آپ کو لے جائوں گا ۔ چنانچہ حضرت اقدس ؑ نے اجازت دی اور۱۲ مئی قبل ظہر ملاقات ہوئی۔
سوال :۔میں ایک علمی مذاق کا آدمی ہوں ۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ زمین جس میں ہم رہتے ہیں ایک چھوٹی سی زمین ہے اور ہزاردرہزار اورلاکھ درلاکھ حصے اس کے علاوہ مخلوق الہٰی کے موجود ہیں اور یہ ان کے مقابلہ میں ایک ذرہ کی بھی حقیقت نہیں رکھتی تو پھر کیا وجہ کہ خداکے فضل کو صرف اسی حصہ زمین یا کسی خاص مذہب وملت میں ہی محدود رکھا گیا ؟
جواب :۔دراصل یہ صحیح نہیں اورنہ ہی ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ ایک خاص فرقہ یا قوم کے ذریعہ خداتعالیٰ اپنی ہستی ظاہر کرتاہے ۔خداتعالیٰ کوکسی خاص قوم سے انس یا رشتہ نہیں۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ خداتمام دنیا کا خدا ہے اورجس طرح اس نے ظاہر جسمانی ضروریات اور تربیت کے واسطے مواد اور سامان تمام قسم کی مخلوق کے واسطے بلا کسی امتیاز کے مشترکہ طورسے پید اکئے ہیں اورہمارے اصول کی رو سے وہ رب العالمین ہے اوراس نے اناج ہواپانی ‘روشنی وغیرہ سامان تمام مخلوق کے واسطے بنائے ہیں اسی طرح سے وہ ہر ایک زمانہ میں ہر ایک قوم کی اصلاح کے واسطے وقتاً فوقتاً مصلح بھیجتا رہا ہے ۔جیسا کہ قرآن شریف میں ہے وان من امۃ الا خلا فیھا نذیر (فاطر:۲۵)
خداتعالیٰ تمام دنیا کا خدا ہے ۔ کسی خاص قوم سے اس کا کوئی رشتہ نہیں اور یہ جو مختلف اوقات میں مختلف آسمانی کتابیں آئی ہیں ان میں بھی دراصل کوئی اختلاف نہیں کیونکہ جو قابل اصلاح امور ہوتے ہیں جب دنیا عملی رنگ سے بالکل بگڑ جاتی ہے اورفسق وفجور اور چوری شرارت وغیرہ پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ پاکیزگی سے دور ہو کر نفسانی شہوات سے مغلوب ہوجاتے ہیں اوراعتقادی طور سے بھی خداکو چھوڑ کر بت پرستی کی طرف جھک جاتے ہیں توپھر خدا جو انسان کا جسمانی اور روحانی مربی ہے اس کی غیرت تقاضا کرتی ہے کہ ان مفاسد کی اصلاح کے واسطے کوئی شخص پیدا کرے اور اس طرح کا مصلح قانون قدرت سے باہر نہیں ۔جس طرح ہمارے واسطے وہ اناج جو حضرت آدم ؑ یا اور