کوئی مذہب ہو۔ خواہ قوم ہو خواہ جماعت ہو بغیر روحانیت کے کوئی قائم نہیں رہ سکتا۔ جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پختہ نہ ہو کوئی مذہب دُنیا میں کس طرح ٹھہر سکتا ہے چونکہ آریہ مذہب میں روحانیت نہیں ۃے اس واسطے اس کا قیام محال ہے ۔ سارے انبیاء صرف خدا کو جانتے تھے۔ برخلا اس کے ان کے پیٹ ہزاروں فریبوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ان میں روحانیت کا کوئی حصہ نہیں۔ خدا کی قدرت ہے کہ جس قدر انبیاء دُنیا میں آئے وہ دُنیاوی معاملات میں ایسے تھے کہ ان کو پانچ روپے کی بھی نوکری نہ مل سکتی۔ مگر چونکہ وہ خدا کے
بنے اس واسطے دین و دُنیا میں وہ مالا مال ہو گئے۔
حقیقۃ الوحی کے مطالعہ کی تلقین :۔
فرمایا:۔ حقیقۃ الوحی کے تین سو سے زائد صفحات لکھے گئے ہیں۔ اس کتاب میں ہر قسم کے دلائل لکھے گئے ہیں۔ جماعت کے لوگوں کو چاہیئے کہ اس کو بغور مطالعہ کریں۔ جن لوگوں کو فرصت شوق اور فہم حاصل ہوگا اور اس کو بغور مطالعہ کریں گے ۔ ان میں ایک طاقت پیدا ہو جائے گی اور وہ پھر اس بات کے محتاج نہ رہیں گے کہ ایسے سوالا ت کے جوابات کسی سے دریافت کریں۔ جماعت کے سب لوگوں کو چاہیئے کہ یہ طاقت اپنے اندر پیدا کریں۔ کیونکہ مخالفین کی عادت ہے کہ خواہ مخواہ چھیڑ دیتے ہیں اور بعض ایسے شریر ہوتے ہیں کہ خود تو اعتراض کر دیتے ہیں اور جب دوسرا آدمی جو اب دینے لگے تو کہہ دیتے ہیںکہ ہم تو کوئی اعتراض نہیں کرتے ہم نے تو یونہی ایک بات کہی تھی ۔ ہماری عادت تو بحث کرنے کی نہیں ایسے لوگ بڑے خبیث ہوتے ہیں ان کو ضرور جواب دینا چاہیئے اور مختصر جواب دینا چاہیئے تاکہ جلدی ان کو شرمندگی حاصل ہو۔
علاوہ ازیں مختصر اور معقول جواب ہر امر کے واسطے یاد رکھنا چاہیئے کیونکہ آجکل دنیا دار دینی معاملات کی طرف توجہ نہیں رکھتے اور دینی باتوں کے سننے میں اپنا تضیع اوقات خیال کرتے ہیں ۔ پس ایسے لوگوں کومختصربات سُنانی چاہیئے جوکہ فوراً ان کے دماغ میں چلی جاوے اور اپنا اثر کر جائے۔
غلام دستگیر قصوری :۔
غلام دستگیر قصوری کے ذکر پر فرمایا:۔
اس نے ایک ایسا مباہلہ کیا تھا جس کی نظیر پہلے بھی اسلامی دُنیا میں موجود ہے جس کا اس نے خود ہی اپنے رسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ایک بزرگ محمد طاہر نام تھے ان کے زمانہ میں دو شخص پیدا ہوئے ۔ ایک نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ایک نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس پر مولوی محمد طاہر صاحب نے خدا تعالیٰ کے حضور میں دُعا کی کہ یا الٰہی اگر یہ مدعی جھوٹے ہیں تو ان کو ہلاک کر ۔اور اگر ان کو نہ ماننے میں میں جھوٹا ہوں تو مجھے ہلاک کر۔ چونکہ وہ دونو کاذب تھے۔ اس واسطے ہر دو ہلاک ہوگئے ۔ غلام دستگیر نے بھی اسی طرح مباہلہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ میں وہی دُعا کرتاہوں جو کہ محمد طاہر نے کی تھی چونکہ اس کے مقابل میں جو
شخص تھا وہ سچا ہے اس واسطے غلام دستگیر خود ہلاک ہوگیا ۔ ۱؎