کر وہ کھٹکا ہی مٹا دیا کہ یہ خداتعالیٰ کی عطا ہے وہ واپس نہیں لی جاتی ۔ اوراس کی نسبت ہم نے ایک اورحدیث بھی دیکھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یاتی علی جھنم زمان لیس فیھا احد ونسیم الصبا تحرک ابوابھا۔ اب دیکھو ۔یہ کیسا پاک اصول اورعقیدہ ہے جو اسلام نے دوزخ اور بہشت کے متعلق مسلمانوں کو سکھایا ہے جس میں ایک ذرہ بھر بھی ظلم نہیں اورنہایت پاک اور حق وحکمت کا اصول ہے کہ ایک خاص حدتک سزاہوگی ۔ بعد اس کے نجات ہوجاویگی کیونکہ آخر فطرتوں اورقویٰ انسانی کا خالق تو خداتعالیٰ ہی ہے کوئی فطرت سلیم اور کانشنس منظور ہی نہیں کرسکتی کہ ایک کمزور اورناتواں انسان کے گناہ کو ایسا عظیم الشان مانا جاوے جو کبھی بخشا ہی نہ جاوے ۔ معراج کی حقیقت دوسرا معاملہ معراج کا ہے ۔ بیشک ہم بھی جانتے ہیں کہ جسم کے ساتھ آپ گئے تھے ۔ بیداری بھی تھی اور جسم بھی تھا مگر وہ ایک اعلیٰ درجہ کی کشفی حالت تھی اس دلیل کے واسطے بخاری کو دیکھ لو کہ یہ ساراواقعہ لکھنے کے بعد لکھا ہوگا کہ ثم استیقظ بھلا اس کے کیا معنے ؟دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کو بہت عرصہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا تھا ۔ اورجن کا علم بھی بہت بڑا تھا ان کی یہ روایت ہے ۔استیقظ سے یہ مراد نہیں کہ آپ نے خواب دیکھا تھا بلکہ ایک قسم کی بیداری تھی اور اس میں یہ بھی شعور تھا کہ مع جسم گئے ۔ یہ ایک خداتعالیٰ کا تصرف ہوتا ہے کہ غیبوت حس نہیں ہوتی اور یہ ایک نکتہ ہے کہ علم سے حل نہیں نہیں ہوسکتا بلکہ تجربہ صحیحہ اس کو حل کرسکتا ہے ۔فلسفہ اورطبعی کا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی اعتراض کے قابل بات ہے مگر بعض لو گ خود اسلام کو بگاڑتے اورقابل اعتراض بناتے ہیں ۔۱؎ ۱۲مئی ۱۹۰۸ء ؁ بمقام لاہور قبل نماز ظہر انگلستان کے پروفیسر ریگ سے گفتگو پروفیسر ریگ جو کہ انگلستان کارہنے والا ایک بڑا بھاری ماہر علم ہیئت ہے ۔وہ تمام دنیا ۱؎ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ صفحہ ۲۔۳ مورخہ ۳۰مئی ۱۹۰۸ئ؁