رہے ہیں ۔مگر کہیں قرآن شریف میں حضرت مسیح کی زندگی کا لفظ صریح طورسے لکھا ہوتا یا احادیث صحیحہ سے حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہوتی جب توان کا حق بھی تھا کہ غیظ وغضب کرتے اورہمیں جو دل چاہتا کہتے ۔ مگر جب خود قرآن اورحدیث ہی ان لوگوں کو دھکے دے رہے ہیں۔ توپھر ان کا حق نہیں ہے کہ اس قدر جھوٹا جوش دکھاویں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس پر فتن زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میل کچیل سے نکال کرایک علیحدہ فرقہ بنادے اوردنیا کو دکھا دے کہ اسلام اس کو کہتے ہیں۔ حالات دوہی قسم کے ماتحت ہوتے ہیں۔ عملی اوراعتقادی ۔مگر اس زمانہ کے مسلمانوں نے ہردورنگ میں اسلام کو بدنام کیا ہے ۔اسلام ہر گندسے پاک اور ہر میدان میں غالب ہے مگر ہم نہیں سمجھتے کہ ان لوگوں نے جو ہتھیار اختیار کئے ہیں ان سے کبھی اسلام غالب ہوسکے ۔ جہنم دائمی نہیں اسلام ایک ایسا پاک اورکامل مذہب ہے کہ اس کے کسی اعتقاد پر اعتراض ہوہی نہیں سکتا ۔ معاد کے متعلق بعض لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر دوزخ کا خلود اورحالت کفر میں مرجانے کی سزا بھی ابدالآباد اورلاانقطاع زمانہ کے واسطے مانی جاوے تو اس طرح سے ایک ظلم لازم آتا ہے اور یہ امر خداتعالیٰ کے بے انتہا رحم کے بر خلاف ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ دوزخ کی ابدیت ‘جنت کی ابدیت اورخلود کی طرح لاانقطاع نہیں ہے ۔کیونکہ جن قویٰ سے انسان ارتکاب گناہ کرتا ہے آخر ان کا خالق بھی تو خود خداہی ہے ۔انسان وہ قویٰ اوروہ فطرت آخر گھر سے تولایا نہیں۔ مانا کہ انسان فعل اورترک فعل میں بعض اوقات دخل وتصرف رکھتا ہے اورخود بدی کرتا ہے مگر چونکہ خالق فطرت خداتھا اوراس نے خود فرمایا ہے خلق الانسان ضعیفاً (النساء :۲۹)لہٰذا اس کو اس کا فائدہ بھی دیا جانا چاہئیے تھا۔ پس گناہ کی سزاہوگی اورعذاب ہوگا مگر یہ ابدیت وہ نہیں جس طرح خدائی ابدیت ہے ایک خاص وقت تک جہنم میں رکھ کر اصلاح ہوجانے پر رہائی ہوجاوے گی ۔ کوئی مانے یانہ مانے ۔ مگر خداتعالیٰ کے کلام سے یہی ثابت ہوتا ہے ۔چنانچہ جہاں بہشت کا ذکر ہے وہاں عطاء غیر مجذوذ (ھود :۱۰۹)کا لفظ ہے اورجہاں جہنم کا ذکر ہے ۔وہاں یہ فرمایا کہ الا ماشآء ربک ان ربک فعال لما یرید (ھود:۱۰۸)ان آیا ت میں غورکرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بہشتیوں کو خوف نہیں دلایا گیا مگر دوزخیوں کو مخلصی کی امید ضروردلائی ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیںکہ اگر بہشت کے متعلق عطآء غیر مجذوذ کا لفظ نہ ہوتا تو بہشت والوں کو بھی کھٹکا ہی رہتا ۔ مگر خداتعالیٰ نے عطآ ء غیر مجذوذ کا لفظ بڑھا