بے قیدیوں کا انجام ہی کیا ہے ؟یہی ہوتا ہے کہ شرابخورہی اورفسق وفجور میں یہ لو گ غرق نظر آتے ہیں اورپھر ان سے جو بد نتائج نکلتے ہیں وہ کیسے خطرناک ہیں ؟دنیا ان کا روز نظارہ کررہی ہے ۔ لقوہ ‘فالج ‘آتشک ‘سوزاک اوربض اوقات جذام تک نوبت پہنچتی ہے اوراس طرح زندگی خطرناک مصائب میں مبتلا ہوکر خوار ہوجاتی ہے چاہئیے کہ اس بے قیدی اوراس قید کے نتائج کا مقابلہ کرکے تو دیکھیں مگر یہ نواجوان جن کو نئی تعلیم کے مصالح لگے ہوئے ہیں سمجھتے نہیں ۔ اس مصالح سے ہی ڈر آتا ہے ۔مگر پھر بھی ناامید نہیں ہونا چاہئیے ۔
میں اس تجویز کا بھی مخالف نہیں جو اس گروہ کی سچی ہمدردی اوراصلاح کے واسطے کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے بلکہ زور سے اس کے موافق ہوں ۔ سومیں سے ایک ہی سہی ورنہ ان کے ٹھٹھا ہنسی کرنے سے ہی ہمیں اپنی محنت کا ثواب مل رہے گا۔
قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی ایسے مجمع می جہاں سوپچاس آدمی جمع ہوں کوئی بات کہی جاتی ہے توان میں اختلاف ضرور ہوجاتا ہے ۔اگر بعض ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں توبعض کو اس صداقت کی سمجھ بھی آہی جاتی ہے اگر چہ یہ سچ ہے کہ صداقت کے حصہ میں تھوڑے ہی آتے ہیں مگروہ تھوڑے ہی جوانمرد ہوتے ہیں کیونکہ صداقت کا قبول کرنا بھی ایک جوانمردی ہے اورپھر حق اورصداقت میں ایک رعب اورطاقت ہوتی ہے۔اس طرح سے ان کی قوت کے ساتھ ایک اورقوت شامل ہوکر بہت بڑی طاقت ہوجاتی ہے ۔
خبیث سے طیب کی تمیز
اورپھر ایک اورخداکا فضل ہمارے حصہ میں یہ آیا ہے کہ ہماری طرف آنے والے حلیم ‘سلیم اورنیک آدمی ہی ہوتے ہیں ان لوگوں کے گندے اشتہاروں اوران کی خلاف تہذیب اور خارج ازانسانیت تحریروں ‘تقریروں اور گالی گلوچ دیکھ کر تو ہمیں خوش ہی ہونا پڑتا ہے ۔ہمیں فائدہ ہی کیا ہوتا اگر یہ گندے لوگ ہم میں آشامل ہوتے خداتعالیٰ نے ہمیں جو بتایا ہے اوروہ خداتعالیٰ کے کلام میں داخل ہے کہ میں خبیث سے طیب کو الگ کرنا چاہتا ہوں ۔اس تمیز اورتمحیص کے ذرائع بھی خود خدانے ہی بنادئیے ہیں ورنہ ممکن تھا کہ لوگ موت ۱؎ کے بھی قائل ہوجاتے اور اس طرح سے ان میں اورہم میں کوئی اختلاف نہ رہ جاتا۔ مگر خداجو خبیث اورطیب میں فرق کرنا چاہتا ہے اس نے اپنی حکمت سے ان میں اور ہم میں کچھ ایسے اختلاف ڈال دیئے کہ ان کو ہم سے بالکل الگ ہی کردیا ۔
یہ عجیب بات ہے کہ ان کے پاس کوئی قوی دلیل نہیں ہے ۔مگر پھر بھی یہ غیظ وغضب میں بھر
۱؎ مراد عیسیٰؑ علیہ السلام کی موت ہے ۔(مرتب )