ساری بندگیوں کا خلاصہ
اتنی تقریر کر چکے پر چند دوستوں نے بیعت کی اوران کے ساتھ ہی ایک بڑے ضعیف العمر بھی تھے ۔ انہوں نے عرض کی کہ حضور میرے واسطے دعاکی جاوے کہ ۔اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کرے۔
فرمایا :۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انسان ہر وقت اس بات کا خیال رکھے کہ عمر کا اعتبار نہیں ۔ نہ معلوم کہ موت کس وقت انسان کو پکڑے گی اور پھر اس کے ساتھ توبہ استغفار کرتا رہے ۔خداتعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہنا اور اس کی رضا کے حصول کی تڑپ دل میں پیدا کرنا اسی میںسب دین اوردنیا آجاتا ہے ۔ساری بندگیوں کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کے گناہ معاف ہوںاور اس سے خداتعالیٰ خوش ہوجاوے ۔
حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ آپ کا نام کیا ہے ؟
اس نے عرض کی کہ مستقیم ۔
فرمایا :۔
اچھا خداتعالیٰ آپ کو مستقیم کرے ۔
بابا مستقیم صاحب نے عرض کی کہ حضور میرا دل چاہتاہے کہ میںآپ کی کوئی خدمت کرنے کے قابل ہوسکوں۔
فرمایا :۔
سب کچھ نیت میں آجاتا ہے ۔ آپ کو آپ کی نیت کا ثواب مل گیا۔ آپ نے یہانتک آنے کی جو تکلیف اٹھائی ہے اس کا بھی اجر دیا جاوے گا۔ اچھا خداتعالیٰ پر راضی رہو۔
موجود ہ زمانہ میں اصلاح کاکام
اس کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر اس سلسلہ کلام کو شروع کرکے فرمایا کہ :۔
زمانہ موجودہ کے حالات کے لحاظ سے مسئلہ اصلاح کچھ بہت ہی مشکل اورپیچیدہ سانظر آتا ہے ۔ آجکل کچھ ہواہی اس کے خلاف چل رہی ہے ۔ہم جو امر پیش کررہے ہیںوہ تو ایک داروئے تلخ ہے ۔یہ لوگ اپنی میٹھی میٹھی عادات چھوڑ کر کڑوی دواجب ہی استعمال کرسکتے ہیں کہ اس کی حقیقت سے ان کو پوری واقفیت اورآگاہی ہوکہ واقع میں وہ مٹھائی ان کے حق میں مضر ہے اوریہ داروئے تلخ آب حیات کا اثر رکھتی ہے اور جب ہی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے ۔خداتعالیٰ نے جو قید لگائی ہے اس میں سراسر رحمت اورکرم ہے ۔بھلا ان