ہوتا ہے کہ وہ خداکا قائل نہیں تھا اور کہ جو کچھ ہے یہی دنیا ہ یہے ۔ آئندہ کچھ نہیں ۔ ایسے بے قید اورآزاد عقائد ہی ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دنیا کا 1/4یا 1/5حصہ بدھ عقائد کا پابند ہے یا ا ن عقائد کو پسند کرتا ہے ۔ مذہب کا دائرہ جتنا تنگ ہوگا اتنا ہی اس میں داخل ہونے والے لوگ بھی کم ہوں گے اوراتنی ہی نسبتاً پاکیزگی اورطہارت اس میں موجودہوگی۔
اسلامی پابندیاں
اسلام نے شرائط پابندی ہردوعورتوں اورمردوں کے واسطے لازم کئے ہیں۔پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے مردوں کو بھی ویسا ہی تاکیدی حکم ہے غض بصر کا ۔نماز ‘روزہ ‘زکوٰۃ ‘حج ‘حلا ل وحرام کا امتیاز ‘خداتعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عادات رسم ورواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہوسکتا۔ عیسائی باش وہرچہ خواہی کن ۔ اوران کا مذہب بھی ایک بے قید مذہب ہے اورمسلمانوں میںبھی آجکل ان لوگوں کو دیکھادیکھی ایک ایسا فرقہ پیدا ہواہے کہ وہ اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں ۔اصل میں یہ سب امور اسی بے قیدی اورآزادی کے خواہشمند وں کو سوجھتے ہیں ۔مگر یادرکھیں کہ بے قیدی اور پاکیزگی تونور وظلمت کی طرح آپس میں دشمن ہیں ۔لاہور میں بھی طبائع میں قبول حق کی استعداد تومعلوم ہوتی ہے مگر بے قیدی اور آزادی ان کے راستے میں ایک سخت روک ہے ۔
لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک قوم مسلمان ہوئی اور انہوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ہمیں نماز معاف کردی جاوے ۔مگر آپ نے ان کو یہی فرمایا کہ دیکھو جس مذہب میں خداتعالیٰ کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی کچھ نہیں۔
جب دنیا کی حالت کے اس آزاد اوربے قید حصہ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو دل پر ایک قسم کا زلزلہ اور لرزہ وارد ہوتا ہے اور خیال آتا ہے کہ حقیقت میں اصلاح کی راہ میں سے اسی پتھر کا اٹھنا مشکل ہے بجز اس کے کہ دنیا پر ایک عظیم الشان انقلاب آجاوے جو دلوں میں خداتعالیٰ کی ہیبت اورسطوت اور جبروت وجلال کا یقین پید اکردے۔
آجکل اگر کوئی شراب کو چھوڑ بھی دیتا ہے اورکہتا ہے کہ شراب کا استعمال ناجائز ہے ۔اصل میں اس کا بھی یہ مطلب ہوتاہے کہ اس کثرت سے استعمال نہ کی جاوے یا یہ کہ باہر لوگوں کے سامنے گلی بازاروں میں نہ پی جاوے ۔گھر کی چاردیواری میں جو چاہیں کریں ۔ مگر اسلام نے ان سب امور کے ساتھ سچے تقویٰ اورحقیقی پاکیزگی کی سخت تاکید ی شرط اور خداتعالیٰ کی حدود میں رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔